منگل , جولائی 28 2026

تیل کی قیمتیں 5 فیصد سے زائد گر گئیں

امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں سے جاری کشیدگی میں عارضی کمی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں پانچ فیصد سے زیادہ گر گئیں، جس سے حالیہ ہفتوں کے دوران پیدا ہونے والا جنگی رسک پریمیم جزوی طور پر ختم ہوگیا۔

پیر کو ایشیائی کاروباری اوقات کے آغاز پر ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 5.39 فیصد کمی کے بعد 84.47 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ برینٹ خام تیل 5.15 فیصد کمی کے ساتھ 91.80 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔

تیل کی قیمتوں میں یہ نمایاں کمی اس وقت سامنے آئی جب امریکہ اور ایران نے حملے عارضی طور پر روکنے کے اشارے دیے، جس سے سرمایہ کاروں نے حالیہ تیزی کے بعد منافع سمیٹنا شروع کر دیا۔

امریکی حکومت نے جمعے کو عندیہ دیا تھا کہ ایران کے خلاف بمباری کی کارروائیاں عارضی طور پر معطل کی جا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے اتوار کو ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ وقفہ سفارتی کوششوں کو موقع دینے کے لیے کیا گیا ہے، تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو خطے میں مزید فوجی وسائل بھیجے جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایران نے بھی حملے روکنے کے اشارے دیے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق عمانی وفد کے ساتھ ہونے والے مذاکرات تعمیری رہے اور بعض معاملات میں پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ رائٹرز سے گفتگو کرنے والے ایک ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ایران کی پالیسی “حملے کے جواب میں حملہ” ہے، یعنی جب تک امریکہ کارروائیاں معطل رکھے گا، ایران بھی حملے نہیں کرے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگی کشیدگی میں عارضی کمی سے تیل کی قیمتوں پر فوری دباؤ آیا ہے، تاہم قیمتوں میں مستقل استحکام کے لیے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں بحری نقل و حمل کی مکمل بحالی ضروری ہوگی۔

ماہرین کے مطابق عالمی شپنگ کمپنیاں اب بھی سکیورٹی خدشات کے باعث محتاط ہیں، کیونکہ حالیہ کشیدگی کے دوران مال بردار جہازوں کے کرایوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا اور معمول کی تجارتی سرگرمیوں کی بحالی میں وقت لگ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی بمباری مہم کے دوران ابتدائی فوجی اہداف بڑی حد تک مکمل ہو چکے تھے، جبکہ اس کارروائی میں بڑی مقدار میں اسلحہ اور دفاعی میزائل بھی استعمال کیے گئے۔ دوسری جانب امریکہ میں آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل پٹرول کی بڑھتی قیمتیں بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے سیاسی دباؤ کا باعث بن رہی ہیں، جہاں قومی اوسط قیمت چار ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران عالمی تیل منڈی کی سمت کا انحصار واشنگٹن اور تہران سے آنے والی خبروں پر ہوگا۔ اگرچہ فوری جنگی خدشات میں کمی آئی ہے، لیکن کسی مستقل معاہدے تک مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

یوفون کو “e&” برانڈ بنانے کی تجویز مؤخر

حکومت نے قانونی رائے طلب کر لی حکومت نے مبینہ طور پر یوفون اور ٹیلی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے