جمعہ , ستمبر 11 2026
بریکنگ نیوز

پاکستان ایس پی آئی مہنگائی میں 0.23 فیصد اضافہ، ایندھن مہنگا مگر سبزیاں سستی

پاکستان ایس پی آئی مہنگائی کا ہفتہ وار چارٹ جس میں 10 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں پیٹرول، ڈیزل اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں تبدیلی دکھائی گئی ہے

پاکستان ایس پی آئی مہنگائی 10 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ہفتہ وار بنیاد پر 0.23 فیصد بڑھ گئی ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق حساس قیمتوں کے اشاریے (SPI) میں یہ اضافہ بنیادی طور پر پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتوں میں بڑے اضافے کی وجہ سے ریکارڈ کیا گیا۔

SPI ملک بھر کے 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے 51 ضروری اشیاء کی قیمتوں کی نگرانی کرتا ہے۔ اگرچہ ایندھن کی قیمتوں نے اشاریے کو اوپر دھکیلا، تاہم کئی روزمرہ استعمال کی سبزیاں سستی ہونے سے عوام کو کسی حد تک ریلیف بھی ملا۔

پاکستان ایس پی آئی مہنگائی میں اضافے کی وجوہات

PBS رپورٹ کے مطابق زیرِ نگرانی 51 اشیاء میں سے 14 اشیاء (27.45 فیصد) کی قیمتوں میں اضافہ، 10 اشیاء (19.61 فیصد) میں کمی، جبکہ 27 اشیاء (52.94 فیصد) کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ اس ہفتے پاکستان ایس پی آئی مہنگائی میں سب سے بڑا کردار غیر خوراکی اشیاء کا رہا: پیٹرول کی قیمت میں 6.18 فیصد، ہائی سپیڈ ڈیزل میں 5.49 فیصد اور ایل پی جی (11.67 کلوگرام سلنڈر) میں 4.32 فیصد اضافہ ہوا۔ خوراکی اشیاء میں مونگ کی دال، گندم کا آٹا اور مسور کی دال کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔

دوسری جانب کئی خراب ہونے والی اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی۔ کیلے 7.73 فیصد، ٹماٹر 5.24 فیصد، مرغی کا گوشت 4.22 فیصد اور پیاز 3.72 فیصد سستے ہوئے، جس نے مہنگائی کے مجموعی دباؤ کو کسی حد تک کم کیا۔

سالانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو صورتحال زیادہ تشویشناک ہے: SPI گزشتہ سال کے اسی ہفتے کے مقابلے میں 8.62 فیصد بڑھ چکا ہے۔ پیاز کی قیمت میں سب سے زیادہ 125.52 فیصد سالانہ اضافہ ہوا، اس کے بعد ایل پی جی (55.42 فیصد)، ڈیزل (45.26 فیصد) اور پیٹرول (39.10 فیصد) شامل ہیں۔ جبکہ آلو، مرغی، چینی اور انڈے ایسی اشیاء رہیں جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں اب سستی ہیں۔

PBS کے اعداد و شمار مختلف آمدنی گروپوں پر پاکستان ایس پی آئی مہنگائی کے اثرات کا موازنہ بھی پیش کرتے ہیں۔ سب سے کم آمدنی والے گروپ (Q1، 17,732 روپے تک) میں ہفتہ وار 0.30 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ سب سے زیادہ آمدنی والے گروپ (Q5، 44,175 روپے سے زائد) میں ہفتہ وار 0.47 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا — جو مختلف آمدنی گروپوں کی خرچ کی عادات میں فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم سالانہ بنیاد پر تمام گروپوں میں 7.25 فیصد سے 8.92 فیصد کے درمیان اضافہ دیکھا گیا۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

تازہ SPI اعداد و شمار جاری ہوتے ہی سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی، جہاں زیادہ تر صارفین نے سبزیوں میں ریلیف کے باوجود پیٹرول اور ڈیزل کی مسلسل بڑھتی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ مسافروں اور چھوٹے دکانداروں نے آمدورفت کے بڑھتے اخراجات پر بات کی، جبکہ کچھ گھرانوں نے کہا کہ سستی سبزیوں اور مرغی سے صرف جزوی ریلیف ملا ہے۔

کئی صارفین نے پیاز کی قیمت میں سالانہ بھاری اضافے کا موازنہ اس کی ہفتہ وار کمی سے کیا اور سبزی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پر سوال اٹھائے۔ معاشی تجزیہ کاروں اور عام شہریوں نے ہفتہ وار SPI رپورٹ کو، جیسا کہ ہر ہفتے ہوتا ہے، مقامی منڈیوں میں قیمتوں پر سخت کنٹرول کے مطالبات دہرانے کے لیے استعمال کیا۔

ماہرین کی رائے

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان ایس پی آئی مہنگائی کی تازہ رپورٹ عالمی توانائی قیمتوں اور کرنسی کی نقل و حرکت کے مقامی ایندھن اخراجات پر مسلسل اثرات کی عکاسی کرتی ہے، جو پاکستان میں قلیل مدتی مہنگائی کے اتار چڑھاؤ کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔

تازہ اشیائے خوردونوش کی گرتی قیمتوں اور بڑھتی ایندھن و توانائی لاگت کے درمیان فرق کو تجزیہ کار موسمی رجحان قرار دیتے ہیں، کیونکہ خزاں کے آغاز میں تازہ سبزیوں کی سپلائی عموماً بہتر ہو جاتی ہے، جبکہ ایندھن کی قیمتیں بین الاقوامی تیل منڈیوں اور وقتاً فوقتاً مقامی قیمتوں میں تبدیلی سے حساس رہتی ہیں۔

تجزیہ کار آمدنی گروپوں کے اعداد و شمار کو بھی اہم قرار دیتے ہیں: کم آمدنی والے گھرانے، جو اپنے بجٹ کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں، اس ہفتے سبزیوں اور مرغی کی قیمتوں میں کمی سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے، جبکہ زیادہ آمدنی والے طبقات — جن کا ایندھن اور خدمات پر زیادہ انحصار ہے — کو ہفتہ وار بنیاد پر زیادہ اضافے کا سامنا رہا۔

سالانہ رجحان کے حوالے سے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ بعض خوراکی اشیاء کی قیمتیں اپنی سابقہ بلند ترین سطح سے کم ہوئی ہیں، تاہم بنیادی مہنگائی، خاص طور پر ایل پی جی، بجلی اور ڈیزل جیسی توانائی سے جڑی اشیاء میں، بلند سطح پر برقرار ہے۔

SPI اعداد و شمار کا خلاصہ

اشیاء اس ہفتے (10-09-2026) گزشتہ ہفتہ (03-09-2026) تبدیلی (ہفتہ وار) ایک سال قبل (11-09-2025) تبدیلی (سالانہ)
مجموعی SPI 364.26 363.42 +0.23% 335.35 +8.62%
پیٹرول سپر (فی لیٹر) 369.75 روپے 348.24 روپے +6.18% 265.82 روپے +39.10%
ہائی سپیڈ ڈیزل (فی لیٹر) 394.68 روپے 374.13 روپے +5.49% 271.71 روپے +45.26%
ایل پی جی (11.67 کلوگرام سلنڈر) 4,810.14 روپے 4,610.97 روپے +4.32% 3,094.86 روپے +55.42%
گندم کا آٹا (20 کلوگرام بیگ) 2,694.20 روپے 2,681.53 روپے +0.47% 2,069.65 روپے +30.18%
پیاز (1 کلوگرام) 202.61 روپے 210.44 روپے -3.72% 89.84 روپے +125.52%
ٹماٹر (1 کلوگرام) 186.58 روپے 196.90 روپے -5.24% 226.58 روپے -17.65%
مرغی کا گوشت (1 کلوگرام) 346.24 روپے 361.48 روپے -4.22% 457.37 روپے -24.30%
کیلے (1 درجن) 159.05 روپے 172.38 روپے -7.73% 143.92 روپے +10.51%
چینی (1 کلوگرام) 145.59 روپے 146.21 روپے -0.42% 184.01 روپے -20.88%
انڈے (1 درجن) 248.30 روپے 249.99 روپے -0.68% 310.19 روپے -19.95%

 

تصویر کا آلٹ ٹیکسٹ (Image Alt Text): پاکستان ایس پی آئی مہنگائی کا ہفتہ وار چارٹ جس میں 10 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں پیٹرول، ڈیزل اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں تبدیلی دکھائی گئی ہے


About Aftab Ahmed

Check Also

رات کے کھانے کے بعد کپ میں سبز چائے پیش کی جا رہی ہے، جو چائے کے فوائد نقصانات کے موضوع کی عکاسی کرتی ہے 

رات کے کھانے کے بعد چائے یا سبز چائے: فوائد اور نقصانات، ماہرین کیا کہتے ہیں؟

پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے کئی گھرانوں میں رات کے کھانے کے بعد چائے یا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے