
مینز جونیئر ایشیا کپ ہاکی 2026 کے پہلے سیمی فائنل میں آج پاکستان اور جنوبی کوریا کی ٹیمیں موقی ٹریننگ بیس، ہولنبوئیر میں مدمقابل ہوں گی، جہاں چار ٹیموں کے درمیان فائنل تک رسائی کی جنگ کا فیصلہ ہونا شروع ہو جائے گا۔
ایشین ہاکی فیڈریشن کے مطابق یہ ٹورنامنٹ ایف آئی ایچ جونیئر ہاکی ورلڈ کپ کے کوالیفائر کے طور پر بھی کام کر رہا ہے، جس کے باعث پاکستان اور کوریا دونوں کے لیے یہ مقابلہ اضافی اہمیت کا حامل ہے۔
جونیئر ایشیا کپ ہاکی میں پاکستان کا شاندار سفر
جونیئر ایشیا کپ ہاکی کے پول بی مرحلے میں گرین شرٹس نے مسلسل چار کامیابیوں کے ساتھ ناقابل شکست انداز میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔
پاکستان نے مہم کا آغاز قازقستان کے خلاف زبردست 15-0 کی کامیابی سے کیا، اس کے بعد میزبان چین کو 4-2 سے شکست دی، ملائیشیا کو 5-2 سے زیر کیا اور آخری پول میچ میں بنگلہ دیش کو 3-0 سے مات دے کر 12 پوائنٹس کے ساتھ پول بی میں سرفہرست رہے۔ رانا وحید اشرف نے بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں دو گول داغے، جبکہ محمد مصطفیٰ نے فتح مکمل کی۔
دوسری جانب جنوبی کوریا نے پول اے میں مضبوط کارکردگی دکھاتے ہوئے سیمی فائنل کی نشست پکی کی۔ پاکستان اور کوریا کا آج کا مقابلہ اس ٹورنامنٹ کا سب سے دلچسپ معرکہ متصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ دونوں ٹیمیں جونیئر سطح پر روایتی حریف رہی ہیں اور حالیہ برسوں میں ایک دوسرے کے خلاف سنسنی خیز مقابلے کھیل چکی ہیں۔
سوشل میڈیا پر جونیئر ایشیا کپ ہاکی سیمی فائنل کا جوش
سوشل میڈیا پر ہاکی شائقین نے پاکستان بمقابلہ کوریا سیمی فائنل کو لے کر زبردست جوش و خروش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستانی مداحوں نے گرین شرٹس کی ناقابل شکست پول مہم کو سراہتے ہوئے فائنل تک رسائی کی امید ظاہر کی، جبکہ کوریائی حلقوں نے اپنی ٹیم کی مستقل مزاجی کو نمایاں کیا۔
ٹورنامنٹ سے متعلق پوسٹس پر #juniorasiacup، #asianhockey، #fieldhockey اور #juniorhockey جیسے ہیش ٹیگز کے ساتھ مداحوں کی بڑی تعداد میچ کی لائیو اپڈیٹس کا انتظار کرتی نظر آئی۔
ماہرین کا تجزیہ: کیا پاکستان فائنل تک رسائی حاصل کر پائے گا؟
ہاکی ماہرین کے مطابق پاکستان کی جارحانہ فارورڈ لائن، جس نے پول مرحلے میں مجموعی طور پر 25 گول داغے، آج کے سیمی فائنل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گرین شرٹس کی مسلسل کامیابیوں نے ٹیم کے اعتماد کو بلند کیا ہے، تاہم جنوبی کوریا کی مضبوط دفاعی حکمت عملی اور جونیئر سطح پر تجربہ پاکستان کے لیے حقیقی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ یہ مقابلہ سخت اور کم فرق کے گولوں پر مشتمل ہو سکتا ہے، جو فائنل کی نشست کا فیصلہ کرے گا۔
UrduLead UrduLead