
خواتین ٹی20 ایشیا کپ 2026 کے دوسرے سیمی فائنل میں آج پاکستان اور سری لنکا کی ٹیمیں دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں شام 7:30 بجے مدمقابل ہوں گی، جہاں فتح یاب ٹیم 13 ستمبر کو ہونے والے فائنل میں جگہ بنائے گی۔
پاکستان کے لیے یہ مقابلہ انتقام کا موقع ہے، جبکہ سری لنکا مسلسل تیسری بار فائنل تک رسائی کی کوشش میں ہے۔
پاکستان سری لنکا سیمی فائنل تک دونوں ٹیموں کا سفر
گروپ اے میں پاکستان بھارت کے بعد دوسرے نمبر پر رہا، جہاں انہیں بھارت کے ہاتھوں سات وکٹوں سے شکست ہوئی، تاہم تھائی لینڈ اور ہانگ کانگ کے خلاف شاندار کامیابیاں حاصل کیں، خاص طور پر ہانگ کانگ کے خلاف 72 رنز کی واضح فتح۔
دوسری جانب سری لنکا نے گروپ بی میں ناقابل شکست کارکردگی دکھاتے ہوئے متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کو آسانی سے شکست دی، جبکہ بنگلہ دیش کے خلاف مقابلہ سخت رہا، جہاں ہرشیتھا سماراویکرما کی ناقابل شکست 48 رنز کی اننگز نے فتح دلائی۔
پاکستان سری لنکا سیمی فائنل مزید دلچسپ اس لیے ہے کیونکہ دونوں ٹیمیں گزشتہ ماہ ہی ایک سہ ملکی ٹی20 سیریز میں مدمقابل آ چکی ہیں، جہاں سری لنکا نے 2-1 سے سیریز اپنے نام کی تھی۔
مجموعی ہیڈ ٹو ہیڈ ریکارڈ میں پاکستان کو معمولی برتری حاصل ہے، جس نے 24 میں سے 12 مقابلے جیتے ہیں، تاہم 2024 کے ایشیا کپ سیمی فائنل میں سری لنکا نے پاکستان کو شکست دے کر باہر کیا تھا، جس کے بعد پاکستان 2016 سے فائنل میں رسائی حاصل نہیں کر سکا۔
شائقین میں پاکستان سری لنکا سیمی فائنل پر بحث
کرکٹ شائقین کے حلقوں میں یہ مقابلہ کانٹے دار تصور کیا جا رہا ہے۔ سری لنکن مداحوں کا اعتماد اپنی ٹیم کی ناقابل شکست مہم پر ہے، جبکہ پاکستانی حلقے فاطمہ ثنا کی حالیہ فارم پر امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔
کئی تجزیہ کاروں نے سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا فاطمہ ثنا کو بیٹنگ آرڈر میں اوپر لایا جانا چاہیے، کیونکہ رواں سال ان کی 150 سے زائد اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 407 رنز کی کارکردگی ٹی20 کرکٹ کی بہترین کارکردگیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا تجزیہ: کون سی ٹیم فائنل میں پہنچے گی؟
کرکٹ ماہرین کے مطابق سری لنکا کی کپتان چامری اتھاپاتھو ٹورنامنٹ کی سب سے کامیاب باؤلر کے طور پر ابھری ہیں، جن کا انڈونیشیا کے خلاف سات وکٹوں کا کارنامہ دبئی کی اسپن دوست پچ پر ان کی صلاحیت کا مظہر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فاطمہ ثنا، جنہوں نے پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ 23 وکٹیں حاصل کی ہیں، آج کے مقابلے میں گیند اور بلے دونوں سے فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔ نشرا سندھو بھی پاکستان کی باؤلنگ حکمت عملی کا اہم حصہ متصور کی جا رہی ہیں۔
زیادہ تر پیش گوئیاں سری لنکا کو ہلکا سا فیورٹ قرار دے رہی ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی بلے باز مناسب مجموعی اسکور بورڈ پر لگانے میں کامیاب رہے تو ان کا باؤلنگ اٹیک سری لنکا کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔
UrduLead UrduLead