ہفتہ , جولائی 25 2026

ڈرون جنگ: عالمی توانائی کے تحفظ کے خطرات

ایران اور یوکرین کی جنگوں نے ثابت کر دیا ہے کہ کم لاگت ڈرون حملے تیل، گیس اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک نیا اور سنگین خطرہ بن چکے ہیں، جس سے عالمی توانائی کی سلامتی کے تصورات تیزی سے بدل رہے ہیں۔

ایران اور یوکرین میں جاری تنازعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جدید ڈرون ٹیکنالوجی نے عالمی توانائی کے تحفظ کا منظرنامہ یکسر تبدیل کر دیا ہے، جہاں نسبتاً کم لاگت والے ڈرون حملے آئل ریفائنریز، تیل بردار جہازوں، بجلی کے نظام اور گیس تنصیبات کو نشانہ بنا کر عالمی منڈیوں کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

سیاسی خطرات پر نظر رکھنے والے ادارے یوریشیا گروپ کے تجزیہ کار گریگوری بریو کے مطابق ایسے تمام ممالک اور کمپنیاں جو کسی بھی ممکنہ تنازع والے علاقے میں توانائی کا انفراسٹرکچر تعمیر کر رہی ہیں، اب انہیں ڈرون حملوں سے تحفظ کو منصوبہ بندی کا بنیادی حصہ بنانا ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق یوکرین نے گزشتہ برسوں میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کے ذریعے متعدد روسی آئل ریفائنریز اور بحیرہ اسود کے قریب خام تیل کی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جس سے روس کی توانائی سپلائی پر دباؤ بڑھا۔

دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کے اطراف جہاز رانی کو متاثر کرنے کے لیے ڈرونز کا استعمال کیا، جس سے تیل، ریفائنڈ مصنوعات اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی ترسیل کو خطرات لاحق ہوئے۔ ایران نے خطے میں دیگر توانائی تنصیبات، بشمول قطر کے بڑے ایل این جی برآمدی مرکز، پر بھی ڈرون حملوں کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

ویسٹ پوائنٹ کے ماڈرن وار انسٹی ٹیوٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق محدود جغرافیائی جنگ بھی اب سستے اور بڑی تعداد میں استعمال ہونے والے ڈرون حملوں کے ذریعے تیل اور گیس کی پیداوار متاثر کر کے پوری دنیا میں معاشی جھٹکے پیدا کر سکتی ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے سینٹر آن گلوبل انرجی پالیسی سے وابستہ ماہر تاتیانا میترووا کا کہنا ہے کہ توانائی کی منصوبہ بندی کے روایتی تصورات اب مؤثر نہیں رہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں بڑے اور مرکزی پاور پلانٹس کے بجائے چھوٹے، منتشر اور مقامی سطح پر قائم توانائی کے نظام زیادہ محفوظ ثابت ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ صدی میں توجہ بڑے منصوبوں اور پیمانے کی معیشت پر تھی، لیکن اب جتنا بڑا ہدف ہوگا، حملے کی صورت میں نقصان بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ اسی لیے ماڈیولر اور چھوٹے پیمانے کا انفراسٹرکچر نسبتاً محفوظ، کم لاگت اور تیزی سے تعمیر یا منتقل کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ پائپ لائنوں، بجلی گھروں اور دیگر اہم تنصیبات کی جگہیں تبدیل نہیں کی جا سکتیں، تاہم ان کے تحفظ کے لیے نیٹنگ، لیزر سسٹمز، الیکٹرانک جیمنگ، میزائل دفاعی نظام، حفاظتی دیواریں اور زیر زمین تنصیبات جیسے اقدامات اختیار کیے جا سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف مہنگے میزائل دفاعی نظام پر انحصار کافی نہیں ہوگا کیونکہ ہر اہم تنصیب کا مکمل دفاع ممکن نہیں۔ اس کے بجائے توانائی کے شعبے اور فوجی اداروں کے درمیان قریبی تعاون، مائیکرو گرڈز، منتشر بجلی کے نظام اور مضبوط حفاظتی حکمت عملی مستقبل کی توانائی سلامتی کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے توانائی کے تحفظ کو صرف اقتصادی نہیں بلکہ قومی سلامتی کا بھی اہم ترین مسئلہ بنا دیا ہے، جس کے پیش نظر حکومتوں اور توانائی کمپنیوں کو اپنی حکمت عملیوں پر فوری نظرثانی کرنا ہوگی۔

About Aftab Ahmed

Check Also

بارشوں کے موسم میں احتیاطی تدابیر

ماہرین صحت نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ مون سون کے دوران پانی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے