
مالی سال 2026 میں زونگ کے ٹاپ 15 ہائبرڈ بنڈلز کی قیمتوں میں اوسطاً 14.4 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ کم قیمت ہفتہ وار پیکجز — جو کم آمدنی والے اور بجٹ کی حدود میں رہنے والے صارفین سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں — میں یہ اضافہ 29 فیصد تک جا پہنچا۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ ٹاپ 15 بنڈلز میں سے کسی ایک کی بھی قیمت پورے سال میں کم نہیں ہوئی، یعنی صارفین کے لیے واحد راستہ اوپر کی طرف ہی رہا۔
پس منظر: زونگ بنڈل مہنگائی عام صارف کو کیوں تکلیف دے رہی ہے؟
جون 2025 سے جون 2026 تک کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام 15 بڑے ہائبرڈ بنڈلز کی قیمتیں یا تو بڑھیں یا زیادہ سے زیادہ برقرار رہیں — کسی ایک میں بھی کمی نہیں ہوئی۔ زونگ بنڈل مہنگائی میں سب سے زیادہ اضافہ “ہفتہ وار لوڈ آفر” میں دیکھا گیا، جو 7 دن کا پیکج ہے اور Rs. 450 سے بڑھ کر Rs. 580 ہو گیا، یعنی 29 فیصد اضافہ۔ اس کے بعد “ویکلی آل اِن ون” (23 فیصد اضافہ) اور “ویکلی پرو پلس” (23 فیصد اضافہ) کا نمبر آتا ہے۔
اس صورتحال میں سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ زیادہ تر اضافہ ماہانہ بنڈلز کے بجائے مختصر مدت کے ہفتہ وار پیکجز میں ہوا ہے۔ چونکہ ہفتہ وار پیکجز کو ماہانہ بنڈلز کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ دفعہ ری چارج کروانا پڑتا ہے، اس لیے فیصد میں معمولی نظر آنے والا اضافہ بھی ان صارفین پر سال بھر میں کہیں زیادہ بوجھ ڈال دیتا ہے جو ایک ساتھ پورا مہینہ ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے اور اسی لیے ہفتہ وار پیکجز پر انحصار کرتے ہیں۔
سال کے دوران متعارف کروائے گئے نئے بنڈلز بھی اس مہنگائی سے محفوظ نہ رہ سکے۔ “منتھلی واٹس ایپ 100” پیکج، جو مارچ 2026 کے قریب Rs. 150 میں لانچ کیا گیا تھا، صرف چند مہینوں میں 20 فیصد اضافے کے بعد Rs. 180 تک پہنچ گیا — یعنی نئے متعارف کردہ “سستے” پیکجز بھی صارفین کے عادی ہونے سے پہلے ہی مہنگے کر دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح “ویکلی سپر” میں 22 فیصد اور “ویکلی آل اِن ون منی” میں 9 فیصد اضافہ اپنے لانچ کے چند ماہ کے اندر ہی دیکھنے میں آیا۔
یہ بوجھ صرف پریمیم صارفین تک محدود نہیں رہا۔ فہرست میں شامل سب سے چھوٹا اور سستا بنڈل، “3 دن کا بنڈل” — جو کم آمدنی اور محدود استعمال والے صارفین کے لیے بنایا گیا ہے — بھی Rs. 120 سے بڑھ کر Rs. 130 ہو گیا، یعنی 8 فیصد اضافہ۔ دوسری طرف “منتھلی سپریم پلس” بنڈل میں روپے کے حساب سے سب سے بڑا اضافہ ہوا — Rs. 300 (19 فیصد) — جس سے قیمت Rs. 1,900 تک جا پہنچی، یعنی سب سے بنیادی سے لے کر سب سے مہنگے پیکج تک، کوئی بھی صارف اس مہنگائی سے نہیں بچ سکا۔
قابلِ غور بات یہ بھی ہے کہ جن تین بنڈلز کو باضابطہ طور پر “0 فیصد سالانہ اضافہ” ظاہر کیا گیا ہے — منتھلی سوشل پلس، منتھلی واٹس ایپ پرائم اور واٹس ایپ پلس آفر — ان کی مکمل حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ مثال کے طور پر منتھلی سوشل پلس کی قیمت ستمبر 2025 میں خاموشی سے Rs. 700 سے کم کر کے Rs. 500 کر دی گئی تھی، مگر مارچ 2026 تک اسے دوبارہ Rs. 700 پر واپس لے آیا گیا۔ صارفین کے نقطہ نظر سے یہ قیمت میں استحکام کم اور ایک عارضی پروموشنل کمی زیادہ محسوس ہوتی ہے جسے توجہ ہٹتے ہی واپس پلٹا دیا گیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے بیشتر حصے میں پاکستان کی مجموعی مہنگائی کی شرح یک ہندسی نمبروں کے قریب رہی، مگر اس نسبتاً پرسکون دور میں بھی زونگ کے فلیگ شپ بنڈلز میں اوسطاً 14.4 فیصد اضافہ عمومی مہنگائی کے رجحان سے کہیں آگے رہا — یعنی ٹیلی کام اخراجات خاموشی سے اس مہنگائی سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھے جو عام سرخیوں میں زیرِ بحث رہی۔
سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل
پاکستانی سوشل میڈیا صارفین زونگ بنڈل مہنگائی پر خاموش نہیں رہے۔ ایکس (ٹوئٹر) اور فیس بک کے ٹیلی کام شکایتی گروپس میں صارفین اکثر شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ ہفتہ وار بنڈلز کی قیمتیں “چند مہینوں بعد ہی” بڑھا دی جاتی ہیں، اور اب انہیں ایک سال پہلے کے مقابلے میں اسی یا زیادہ ری چارج پر کم ڈیٹا اور منٹس مل رہے ہیں۔
ایک عام شکایت یہ ہے کہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے اور طلبہ جن سستے ہفتہ وار بنڈلز پر انحصار کرتے ہیں، انہی میں سب سے زیادہ اضافہ کیا گیا ہے، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ سب سے حساس صارفین کو ہی سب سے زیادہ بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔
کئی صارفین نے مختصر مدت کی قیمتوں میں کمی کو محض مارکیٹنگ حربہ قرار دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ چند ماہ بعد قیمتیں پہلے سے بھی زیادہ کر دی گئیں۔
ماہرین کی رائے
ٹیلی کام سیکٹر کے تجزیہ کاروں کے مطابق مختصر مدت کے بنڈلز پر بار بار اضافہ پاکستان کے کم آمدنی اور پری پیڈ صارفین پر غیر متناسب اثر ڈالتا ہے، جو ملک کے موبائل صارفین کی اکثریت پر مشتمل ہیں اور عموماً طویل مدتی ماہانہ کمٹمنٹ کی استطاعت نہیں رکھتے۔
تجزیہ کار یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ چونکہ فہرست میں دی گئی تمام قیمتیں پہلے ہی WHT اور GST سمیت ہیں، اس لیے صارفین کو یہ اندازہ لگانے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ اضافے کا کتنا حصہ حکومتی ٹیکس کا نتیجہ ہے اور کتنا کمپنی کا اپنا فیصلہ — یہ شفافیت کی کمی عوام کے لیے کمپنی یا ریگولیٹر، کسی کو بھی جوابدہ ٹھہرانا مشکل بنا دیتی ہے۔
صارفین کے حقوق سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے متعارف کردہ “سستے” بنڈلز کو لانچ کے چند ماہ کے اندر ہی مہنگا کرنے کا رجحان ان بنڈلز کے اصل مقصد کو ہی کمزور کرتا ہے، جو کم آمدنی والے صارفین کو سستی رسائی فراہم کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔
- تصویر کا آلٹ ٹیکسٹ: پاکستانی موبائل صارف زونگ بنڈل مہنگائی کے بعد اپنے فون پر بڑھی ہوئی قیمتیں دیکھ رہا ہے
UrduLead UrduLead