
پاکستان بھر میں کی گئی طبی تحقیق کے مطابق ملک کی تقریباً 22.5 فیصد بالغ آبادی مائیگرین یعنی شقیقہ کے درد کا شکار ہے، جس میں خواتین کی شرح مردوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ مائیگرین کا علاج بروقت نہ کروانے کی صورت میں یہ تکلیف روزمرہ زندگی، تعلیم اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔
پس منظر: مائیگرین کا علاج کیوں ضروری ہے؟
عالمی سطح پر مائیگرین ایک ارب سے زائد افراد کو متاثر کرتا ہے اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق معذوری کا باعث بننے والے امراض میں یہ تیسرے نمبر پر ہے۔
پاکستان میں کی گئی ایک قومی سطح کی سروے رپورٹ کے مطابق مردوں میں یہ شرح 18 فیصد جبکہ خواتین میں تقریباً 27 فیصد ریکارڈ کی گئی، اور اس کا زور 40 سے 49 سال کی عمر کے افراد میں سب سے زیادہ دیکھا گیا۔
کراچی کے میڈیکل طلبہ پر ہونے والی ایک الگ تحقیق میں تو نصف سے زائد طلبہ مائیگرین کی شکایت کر چکے ہیں، جس کی بڑی وجوہات ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی بتائی گئیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان جیسے ملک میں گرمی کی شدت، بجلی کی بندش، بے وقت کھانا، اسکرین کا زیادہ استعمال اور ذہنی دباؤ مائیگرین کے حملوں کو مزید بڑھاوا دیتے ہیں۔ اسی لیے آگاہی اور بروقت مائیگرین کا علاج وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل
پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد ایکس (ٹوئٹر) اور فیس بک گروپس میں مائیگرین کے دورانیے، شدت اور گھریلو ٹوٹکوں کا تذکرہ کرتی نظر آتی ہے۔ بہت سے صارفین گرمی، لوڈ شیڈنگ اور نیند کی کمی کو اپنے درد کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں، جبکہ خواتین صارفین ماہواری سے جڑے مائیگرین کے حملوں پر بھی کھل کر بات کر رہی ہیں۔
کئی صحتِ عامہ کے صفحات اور ڈاکٹروں کے آفیشل اکاؤنٹس سے مائیگرین سے بچاؤ اور علاج سے متعلق آگاہی پوسٹس بھی مسلسل شیئر کی جا رہی ہیں۔
ماہرین کی رائے
نیورولوجسٹس کے مطابق مائیگرین کا علاج دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: پہلا فوری درد کم کرنے والا علاج جو حملے کے دوران استعمال ہوتا ہے، اور دوسرا حفاظتی علاج جو بار بار ہونے والے حملوں کی شدت اور تعداد کم کرنے کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔
ماہرین زور دیتے ہیں کہ کوئی بھی دوا مستند معالج کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کی جائے، کیونکہ خود علاجی رجحان تکلیف کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
طبی ماہرین عام طور پر درج ذیل تدابیر تجویز کرتے ہیں:
- نیند کا باقاعدہ اور مکمل معمول اپنانا
- کھانے میں وقفہ نہ آنے دینا اور متوازن غذا لینا
- ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے یوگا یا سانس کی مشقیں
- تیز روشنی، شور اور تیز خوشبو جیسے محرکات (ٹریگرز) کی نشاندہی اور ان سے اجتناب
- شدید یا بار بار ہونے والے حملوں کی صورت میں نیورولوجسٹ سے رجوع
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مائیگرین کے مخصوص کلینکس اور تربیت یافتہ نیورولوجسٹس کی کمی بھی مریضوں کے لیے بروقت اور مؤثر مائیگرین کا علاج حاصل کرنے میں رکاوٹ ہے، خصوصاً دیہی علاقوں میں۔
UrduLead UrduLead