
آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (OGDC) نے مالی سال 2025-26 کے لیے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا نقد ڈیویڈنڈ اعلان کیا، تاہم پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور لندن اسٹاک ایکسچینج میں جمع کرائے گئے مالیاتی گوشواروں کا گہرائی سے جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ اس بڑے اعلان کے پیچھے او جی ڈی سی بڑھتے اخراجات نے کمپنی کی آپریشنل کارکردگی کو نمایاں طور پر متاثر کیا، تلاش (exploration) کے مد میں نقصانات بڑھے، اور منافع میں اضافہ بنیادی کاروبار کی بجائے ٹیکس میں یکبارگی کمی کا نتیجہ زیادہ نظر آتا ہے۔
بورڈ نے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں 6 روپے فی شیئر (60 فیصد) حتمی نقد ڈیویڈنڈ کی سفارش کی، جو کہ پہلے سے دیے گئے 11 روپے فی شیئر (110 فیصد) عبوری ڈیویڈنڈز کے علاوہ ہے۔
اس طرح مالی سال 2026 کے لیے مجموعی تقسیم 68.81 ارب روپے تک جا پہنچی جو گزشتہ سال کے 60.43 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ شیئر ٹرانسفر بکس 9 اکتوبر سے 16 اکتوبر 2026 تک بند رہیں گی جبکہ سالانہ جنرل میٹنگ 16 اکتوبر کو ہوگی۔
پس منظر: منافع کا ہندسہ پوری کہانی نہیں بتاتا
کاغذ پر او جی ڈی سی کا خالص منافع 169.90 ارب روپے سے بڑھ کر 242.37 ارب روپے ہو گیا، جو بظاہر متاثر کن لگتا ہے، لیکن ٹیکس کی مد کا جائزہ لینے پر تصویر بدل جاتی ہے۔
کمپنی کی مؤثر ٹیکس شرح مالی سال 2025 کے تقریباً 39 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2026 میں محض 6.5 فیصد رہ گئی — ٹیکس کی مد میں ادائیگی 109.41 ارب روپے سے کم ہو کر 16.76 ارب روپے رہ گئی، حالانکہ ٹیکس سے پہلے منافع تقریباً برابر رہا بلکہ معمولی کمی کے ساتھ 279.31 ارب روپے سے 259.13 ارب روپے پر آ گیا۔
گویا رپورٹ شدہ منافع میں اضافے کی بڑی وجہ ٹیکس کا سازگار نتیجہ ہے نہ کہ کاروبار کی بہتر کارکردگی، اور اس پس منظر میں او جی ڈی سی بڑھتے اخراجات کا مسئلہ مستقبل میں مزید سنگین دکھائی دیتا ہے۔
ٹیکس کی مد سے ہٹ کر دیکھا جائے تو آپریشنل تصویر ہیڈ لائن سے کہیں کمزور ہے۔ آمدنی میں محض 12 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 449.19 ارب روپے تک پہنچی، جبکہ مجموعی منافع (gross profit) صرف 6.5 فیصد بڑھ کر 246.76 ارب روپے رہا، کیونکہ رائلٹی، آپریٹنگ اخراجات اور ٹرانسپورٹیشن چارجز مل کر 202.43 ارب روپے تک جا پہنچے۔
صرف آپریٹنگ اخراجات میں 23 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 120.20 ارب روپے سے بڑھ کر 147.69 ارب روپے تک پہنچ گئے — یعنی اخراجات آمدنی کے مقابلے میں تقریباً دگنی رفتار سے بڑھے، جو منافع کے مارجن پر دباؤ کی واضح علامت ہے اور اسی کو او جی ڈی سی بڑھتے اخراجات کہا جا سکتا ہے۔
تلاش (exploration) کے اخراجات کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ ایکسپلوریشن اینڈ پراسپیکٹنگ اخراجات میں 53 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 18.77 ارب روپے سے بڑھ کر 28.78 ارب روپے تک جا پہنچے، جبکہ خشک اور متروک کنوؤں (dry and abandoned wells) پر خرچ ہونے والی رقم — یعنی وہ سرمایہ جو بغیر کسی نتیجے کے ضائع ہوا — 45.5 فیصد بڑھ کر 4.23 ارب روپے سے 6.16 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
عمومی و انتظامی اخراجات میں بھی 47 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 11.06 ارب روپے تک جا پہنچے۔ دوسری جانب، فنانس اور دیگر آمدنی — جو ماضی میں کمپنی کے منافع کو سہارا دیتی رہی ہے — 33.5 فیصد کم ہو کر 81.82 ارب روپے سے 54.39 ارب روپے پر آ گئی، جس سے وہ سہارا بھی کمزور پڑ گیا جو اخراجات کے دباؤ کو متوازن رکھتا تھا۔
نقدی کے بہاؤ (cash flow) میں بھی دباؤ واضح نظر آتا ہے۔ سرمایہ خرچ (capital expenditure) میں تقریباً 48 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 108.20 ارب روپے تک جا پہنچا، جبکہ سرمایہ کاری کی سرگرمیوں سے نیٹ نقدی کا بہاؤ منفی 2.43 ارب روپے رہا، جبکہ گزشتہ سال یہ مثبت 4.93 ارب روپے تھا — یعنی کمپنی اب سرمایہ کاری کی سرگرمیوں پر اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کر رہی ہے۔
اس دوران تجارتی واجبات (trade debts) بھی ایک مستقل مسئلہ بنے ہوئے ہیں: سال کے اختتام پر یہ رقم 594.85 ارب روپے رہی، جو گزشتہ سال کے 613.66 ارب روپے سے معمولی کمی ہے، جو توانائی کے شعبے کے دیرینہ گردشی قرضے (circular debt) کے مسئلے اور او جی ڈی سی کی نقد آمدنی کے لیے خطرے کی نشاندہی کرتی ہے۔
عوامی اور سرمایہ کاروں کا ردعمل
اعلان کے بعد سے سرمایہ کاروں کے فورمز اور سوشل میڈیا پر ردعمل خوشی سے زیادہ محتاط دکھائی دیتا ہے۔
عام سرمایہ کاروں نے ریکارڈ نقد ڈیویڈنڈ کا خیرمقدم کیا، تاہم مارکیٹ پر نظر رکھنے والے متعدد صارفین نے نشاندہی کی کہ یہ ڈیویڈنڈ ایسے وقت میں دیا جا رہا ہے جب آپریٹنگ اخراجات، ایکسپلوریشن کے نقصانات اور خشک کنوؤں پر خرچ مسلسل بڑھ رہا ہے، اور سوال اٹھایا کہ اگر کم ٹیکس شرح عارضی ثابت ہوئی تو کیا موجودہ سطح کا ڈیویڈنڈ برقرار رکھا جا سکے گا۔
کچھ صارفین نے تجارتی واجبات کے بلند حجم کو بھی ایک مستقل مسئلہ قرار دیا جو ڈیویڈنڈ کی خبروں کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔
ماہرین کا تجزیہ
ای اینڈ پی (exploration & production) شعبے پر نظر رکھنے والے مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نتیجے میں او جی ڈی سی بڑھتے اخراجات — آپریٹنگ اخراجات، ایکسپلوریشن اخراجات اور انتظامی اخراجات میں اضافہ — ڈیویڈنڈ سے کہیں زیادہ اہم خبر ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ٹیکس شرح میں یکبارگی اور غیرمعمولی کمی نے خالص منافع اور فی شیئر آمدنی (EPS، جو 39.50 روپے سے بڑھ کر 56.35 روپے ہوئی) کو مصنوعی طور پر بہتر دکھایا ہے، اور سرمایہ کاروں کو EPS کے اضافے سے ہٹ کر مجموعی مارجن میں کمی پر توجہ دینی چاہیے۔
خشک کنوؤں پر بڑھتے اخراجات کو کم کامیاب ایکسپلوریشن کارکردگی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے، جبکہ سرمایہ کاری کی سرگرمیوں سے منفی نقدی بہاؤ ظاہر کرتا ہے کہ بلند سرمایہ خرچ کے مقابلے میں منافع ابھی تناسب سے نہیں بڑھا۔ بلند تجارتی واجبات کو پاکستان کے توانائی شعبے کی ادائیگی کی زنجیر سے جڑا ہوا ایک مسلسل نقدی خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اہم اعداد و شمار — مالی سال 2026 بمقابلہ مالی سال 2025 (روپے ہزاروں میں)
| شعبہ | مالی سال 2026 | مالی سال 2025 | تبدیلی |
|---|---|---|---|
| آمدنی | 449,190,752 | 401,177,969 | +12.0% |
| مجموعی منافع | 246,763,886 | 231,607,939 | +6.5% |
| آپریٹنگ اخراجات | 147,693,389 | 120,196,643 | +22.9% |
| ایکسپلوریشن و پراسپیکٹنگ اخراجات | 28,780,511 | 18,766,791 | +53.4% |
| خشک و متروک کنوؤں کی لاگت | 6,160,917 | 4,233,127 | +45.5% |
| عمومی و انتظامی اخراجات | 11,063,481 | 7,514,990 | +47.2% |
| فنانس اور دیگر آمدنی | 54,385,326 | 81,821,097 | −33.5% |
| ٹیکس | 16,761,223 | 109,411,247 | −84.7% |
| خالص منافع | 242,373,646 | 169,903,614 | +42.7% |
| سرمایہ کاری سرگرمیوں سے نیٹ نقدی | (2,427,587) | 4,930,621 | منفی رخ |
| تجارتی واجبات (سال کے اختتام پر) | 594,845,141 | 613,660,983 | −3.1% |
UrduLead UrduLead