منگل , جولائی 28 2026

یوفون کو “e&” برانڈ بنانے کی تجویز مؤخر

حکومت نے قانونی رائے طلب کر لی

حکومت نے مبینہ طور پر یوفون اور ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کے بعد نئی کمپنی کو “e&” کے نام سے ری برانڈ کرنے کی تجویز پر بریک لگا دی ہے، جبکہ اس معاملے پر قانونی اور گورننس سے متعلق اہم سوالات اٹھنے کے بعد برانڈنگ کا عمل عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق یوفون کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے انضمام کے بعد نئی کمپنی کے لیے “e&” برانڈ کی منظوری دی تھی، تاہم اس فیصلے پر حکومتی حلقوں میں تحفظات سامنے آنے کے بعد اعلیٰ سطح پر فوری مداخلت کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اب وزارت قانون (لا ڈویژن) سے رائے لینے پر غور کر رہی ہے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ آیا یوفون کے بورڈ کو قانونی طور پر انضمام مکمل ہونے سے قبل نئی کمپنی کی کارپوریٹ شناخت یا برانڈ نام کی منظوری دینے کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔

رپورٹ کے مطابق بنیادی قانونی سوال یہ ہے کہ آیا کسی ذیلی کمپنی کا بورڈ تمام قانونی، ریگولیٹری اور کارپوریٹ تقاضے مکمل ہونے سے پہلے انضمام شدہ ادارے کی برانڈنگ کا فیصلہ خود کر سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق قانونی رائے آنے تک “e&” برانڈ کے تجارتی اجرا اور مارکیٹنگ مہم کو مؤخر کیے جانے کا امکان ہے، جس کے باعث ری برانڈنگ کا پورا عمل فی الحال تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔

اس معاملے نے سرکاری اداروں میں کارپوریٹ گورننس اور حکومتی نامزد ڈائریکٹرز کی ذمہ داریوں پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں کے بورڈز میں شامل سرکاری نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی مفاد، قانون اور کارپوریٹ گورننس کے اصولوں کے مطابق فیصلے کریں، خصوصاً ایسے معاملات میں جو قومی اہمیت کے حامل اداروں سے متعلق ہوں۔

یوفون کے بورڈ میں حکومتی نامزد ارکان بھی شامل ہیں، جن میں مسلم لیگ (ن) کی سینیٹر انوشہ رحمان خان اور دو وفاقی سیکریٹریز شامل ہیں۔ ان ارکان کی موجودگی کے باعث یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا ری برانڈنگ کی منظوری سے قبل تمام قانونی اور انتظامی پہلوؤں کا مکمل جائزہ لیا گیا تھا یا نہیں۔

یہ مجوزہ برانڈ تبدیلی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی جانب سے ٹیلی نار پاکستان کے حصول اور بعد ازاں یوفون اور ٹیلی نار کے انضمام کے منصوبے کا حصہ ہے، جس کے بعد ملک کی بڑی موبائل ٹیلی کام کمپنیوں میں سے ایک وجود میں آئے گی۔

ذرائع کے مطابق حکومتی حلقوں میں اس بات پر بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ “e&” برانڈ اپنانے سے کمپنی کی شناخت سے لفظ “پاکستان” ختم ہو جائے گا، حالانکہ یہ ادارہ ملک کے اسٹریٹجک ٹیلی کمیونیکیشن شعبے کا ایک اہم حصہ ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 16 جون 2026 کو جاری کیے گئے ایک خط میں برانڈ نام کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ کمپنی انضمام کے قانونی عمل کی تکمیل کے بعد اور “e&” برانڈ کے تجارتی اجرا یا مارکیٹنگ مہم سے قبل اتھارٹی کو باقاعدہ آگاہ کرے۔

بعد ازاں 2 جولائی کو جاری کیے گئے ایک اور خط میں بھی پی ٹی اے نے واضح کیا کہ برانڈ کی تبدیلی صرف اس وقت عمل میں لائی جا سکتی ہے جب انضمام قانونی طور پر مکمل ہو جائے اور تمام متعلقہ شرائط پوری کر دی جائیں۔ حکومت کی جانب سے قانونی رائے طلب کیے جانے کے بعد اب اس معاملے پر حتمی فیصلہ قانون اور ریگولیٹری تقاضوں کی روشنی میں کیے جانے کا امکان ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

تیل کی قیمتیں 5 فیصد سے زائد گر گئیں

امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں سے جاری کشیدگی میں عارضی کمی کے بعد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے