
امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی امیدوں کے باعث جمعہ کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے سرمایہ کاروں میں کشیدگی کے خاتمے اور تیل کی ترسیل بحال ہونے کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔
یورپی کاروباری اوقات کے آغاز پر عالمی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت 4.34 فیصد کمی کے بعد 86.36 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ امریکی معیار ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 4.47 فیصد کمی کے ساتھ 83.88 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ تین ماہ کی کم ترین سطح کی جانب بڑھتے دکھائی دیے۔
تیل کی قیمتوں میں یہ نمایاں کمی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے ایران پر ممکنہ فوجی حملہ روکنے اور تہران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ’’بہترین تصفیے‘‘ تک پہنچنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ٹرمپ کے مطابق معاہدے کی دستاویزات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے ایک مجوزہ مفاہمتی مسودے میں امریکہ کی جانب سے اقتصادی اور بحری پابندیوں میں نرمی جبکہ ایران کی جانب سے 30 روز کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کی تجویز شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق 14 نکاتی مسودے میں یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ حتمی امن مذاکرات کا آغاز اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک امریکہ ایران پر عائد تیل کی پابندیاں معطل نہیں کرتا، آبنائے ہرمز کے باہر قائم بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا اور ایران کے منجمد اثاثوں کا نصف حصہ جاری نہیں کرتا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی کی نظریں آبنائے ہرمز کی جلد بحالی پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس اہم آبی گزرگاہ میں رکاوٹ برقرار رہنے کی صورت میں خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی آ سکتی ہے، جس سے عالمی معیشتوں پر دباؤ بڑھے گا۔
تاہم ممکنہ معاہدے کے حوالے سے متضاد اشارے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ معاہدے کے متن کے بیشتر حصوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، لیکن امریکہ کے متضاد مؤقف مذاکراتی عمل میں رکاوٹ کا باعث بنتے رہے ہیں۔
ان کے مطابق امریکی حکام بارہا اپنے مؤقف تبدیل کرتے رہے، نئی اور غیر حقیقی شرائط عائد کرتے رہے اور مذاکرات کے دوران فوجی کارروائیاں بھی کرتے رہے، جس سے اعتماد سازی کے عمل کو نقصان پہنچا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی معمول پر آ جاتی ہے تو عالمی تیل منڈی میں مزید استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور توانائی کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کا امکان ہے۔
UrduLead UrduLead