
آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فوجی اہداف پر امریکی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں نئی کشیدگی کے خدشات نے توانائی کی منڈیوں کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ابتدائی ایشیائی تجارت کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت ایک فیصد سے زائد اضافے کے بعد 92.39 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 89 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق یہ حملے ایران کی جانب سے ایک امریکی فوجی اپاچی ہیلی کاپٹر گرانے کے واقعے کے جواب میں کیے گئے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فضائی دفاعی نظام، زمینی کنٹرول اسٹیشنز اور نگرانی کے ریڈار مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب ایران نے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپاچی ہیلی کاپٹر کا حادثہ ایک اتفاقیہ واقعہ تھا اور واشنگٹن اسے حملوں کے جواز کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے واقعے پر سخت ردعمل کا عندیہ دیا تھا، تاہم بعد میں ایک انٹرویو میں کہا کہ چونکہ پائلٹ محفوظ رہے، اس لیے یہ کوئی بڑا واقعہ نہیں تھا۔
اس سے قبل ہفتے کے آغاز میں ایران اور اسرائیل کے درمیان میزائل حملوں کے تبادلے کے بعد بھی تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی تھی۔ اسرائیل کی جانب سے جنوبی بیروت میں کارروائی کے بعد تہران نے سخت ردعمل دیا تھا، تاہم امریکہ اور علاقائی اتحادیوں کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں کشیدگی میں عارضی کمی آ گئی تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ تصادم نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مارکیٹ اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ آیا یہ محدود جوابی کارروائیوں تک رہے گا یا خطے میں کشیدگی کا ایک نیا مرحلہ شروع ہونے والا ہے۔
جغرافیائی سیاسی عوامل کے علاوہ امریکی خام تیل کے ذخائر میں مسلسل کمی بھی قیمتوں کو سہارا دے رہی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کے ذخائر میں مزید 91 لاکھ بیرل سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جو مسلسل آٹھویں ہفتہ وار کمی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عالمی منڈی میں سپلائی کے دباؤ کو مزید بڑھا رہی ہے۔
توانائی کے شعبے میں اس وقت اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کس حد تک متاثر ہو رہی ہے اور کسی ممکنہ امن معاہدے کی صورت میں سپلائی معمول پر آنے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ عالمی ذخائر میں مسلسل کمی کو نظر انداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران اپنے خلاف کسی بھی کارروائی کا جواب ضرور دے گا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے بحرین اور کویت میں دھماکوں کی اطلاعات بھی نشر کی ہیں، جبکہ ایرانی نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کے اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف تیل کی عالمی سپلائی بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے استحکام کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
UrduLead UrduLead