
میڈیا پر سامنے آنے والے الزامات میں کراچی کسٹمز اپریزمنٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں، آٹو پارٹس اور اسکریپ کنٹینرز کی کلیئرنس میں کرپشن اور بعض افسران کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
میڈیا پر گردش کرنے والے خبروں میں کراچی کسٹمز اپریزمنٹ میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور کنٹینرز کی کلیئرنس کے عمل میں کرپشن کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق نہیں ہوئی۔
الزامات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آٹو اسپیئر پارٹس کے کنٹینرز کی کلیئرنس کے دوران قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی اور بعض افسران کے خلاف اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ بیان میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ بعض مقدمات میں کارروائی کے بجائے صرف تبادلے کیے گئے، جس سے احتساب کے عمل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
میڈیا میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسکریپ کنٹینرز کی کلیئرنس سے متعلق ایک بڑے کیس میں تحقیقات کی سفارش کی گئی تھی، تاہم متعلقہ افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور کسٹمز حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مبینہ بے ضابطگیوں کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی بھی افسر کے خلاف الزامات درست ثابت ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ان الزامات پر ایف بی آر یا پاکستان کسٹمز کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس اور کسٹمز نظام پر عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر قسم کے کرپشن کے الزامات کی آزادانہ، شفاف اور بروقت تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور احتساب کا عمل بلاامتیاز یقینی بنایا جا سکے۔
UrduLead UrduLead