اتوار , جولائی 26 2026

 ’سکائی 47‘ : مصنوعی ذہانت کے نئے دور کا آغاز

پاکستان نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے ملک کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر اور اے آئی کلاؤڈ “سکائی 47 (قراقرم ون)” کا افتتاح کر دیا، جسے حکومت نے ڈیجیٹل معیشت، سائبر سکیورٹی اور سرکاری ڈیٹا کے تحفظ کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ “سکائی 47” پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی بنیاد ہے اور یہ منصوبہ ملک کو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور قومی ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے نئی صلاحیتیں فراہم کرے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اسی نوعیت کے جدید ڈیٹا سینٹرز کراچی اور لاہور میں بھی قائم کیے جائیں گے جبکہ تمام سرکاری اداروں کو مرحلہ وار اس نظام سے منسلک کیا جائے گا۔

حکومت کے مطابق یہ منصوبہ چین کی معروف ٹیلی کمیونیکیشن اور ٹیکنالوجی کمپنی زیڈ ٹی ای (ZTE) کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے، جو اس سے قبل بھی پاکستان میں متعدد ٹیلی کام اور ڈیجیٹل منصوبوں پر کام کر چکی ہے۔

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ “سکائی 47” پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے نئے دور کا آغاز ہے۔ ان کے مطابق ڈیٹا سینٹر میں جدید گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs)، ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ سسٹمز اور جدید ترین ڈیٹا اسٹوریج کی سہولت موجود ہوگی، جس سے اے آئی ایپلی کیشنز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل سروسز کو فروغ ملے گا۔

سکائی 47 کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حسن عباس نے بتایا کہ دنیا بھر میں تقریباً 12 ہزار ڈیٹا سینٹرز موجود ہیں جبکہ پاکستان میں صرف 22 ڈیٹا سینٹرز کام کر رہے ہیں، حالانکہ ملک میں ڈیجیٹل خدمات کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں ای کامرس کا شعبہ سالانہ 25 سے 30 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے، جس کے باعث جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے ڈیٹا سینٹر میں ایک ہزار ریکس نصب کرنے کی گنجائش موجود ہوگی اور یہ کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا ہوسٹنگ، سرکاری اداروں، بینکوں، کاروباری اداروں اور نجی کمپنیوں کے لیے محفوظ ڈیجیٹل خدمات فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ حساس قومی اور تجارتی معلومات کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

مصنوعی ذہانت کے ماہر ڈاکٹر فیصل کامران کے مطابق ڈیٹا سینٹر دراصل طاقتور سرورز پر مشتمل ایسے مراکز ہوتے ہیں جہاں ویب سائٹس، موبائل ایپلی کیشنز، حکومتی ریکارڈ اور دیگر ڈیجیٹل معلومات محفوظ کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں، جن میں گوگل، مائیکروسافٹ اور ایمیزون شامل ہیں، اپنے وسیع ڈیٹا سینٹرز کے ذریعے اربوں صارفین کو چوبیس گھنٹے خدمات فراہم کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقامی ڈیٹا سینٹرز کے قیام سے سرکاری اور نجی اداروں کا حساس ڈیٹا ملک کے اندر محفوظ رکھا جا سکے گا، جس سے سائبر سکیورٹی بہتر ہوگی اور بیرونی سرورز پر انحصار بھی کم ہوگا۔

آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے ماہر مجتبیٰ محمد کے مطابق اے آئی کلاؤڈ دراصل ایسے جدید سرورز پر مشتمل نظام ہوتا ہے جو مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپلی کیشنز کو تیز رفتار کمپیوٹنگ صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ نظام نہ صرف جدید تحقیق بلکہ صنعت، صحت، تعلیم، مالیاتی خدمات اور سرکاری اداروں میں بھی نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔

پاکستان میں اے آئی انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے نجی شعبہ بھی سرگرم ہے۔ گزشتہ برس “ڈیٹا والٹ پاکستان” نے ٹیلی نار پاکستان کے اشتراک سے ملک کا پہلا خودمختار آرٹیفیشل انٹیلی جنس کلاؤڈ متعارف کرایا تھا، جبکہ حکومت اب سرکاری سطح پر اس شعبے کو مزید وسعت دینے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ “سکائی 47” جیسے منصوبے پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور قومی ڈیٹا سکیورٹی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم ان کی کامیابی کا انحصار مستحکم توانائی، مضبوط سائبر سکیورٹی، جدید قوانین اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی دستیابی پر ہوگا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

52 نئی جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کی منظوری

وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے کینسر، ذیابیطس، ہیموفیلیا اور پارکنسن سمیت مختلف بیماریوں کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے