
پاکستان ایئر فورس کے جدید جے-10 سی جنگی طیاروں کی کم بلندی پر پروازوں نے جمعرات کی صبح لاہور کے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی، تاہم حکام نے واضح کیا کہ یہ 23 مارچ یومِ پاکستان پریڈ کی سالانہ ریہرسل کا حصہ ہے اور کسی ہنگامی صورتحال سے تعلق نہیں۔
پاکستان ایئر فورس کے جے-10 سی اور دیگر جنگی طیاروں نے جمعرات کی صبح لاہور کی فضاؤں میں مسلسل فلائی اوور کیے، جس کے باعث شہریوں نے سوشل میڈیا پر غیر معمولی صورتحال کے خدشات ظاہر کئے۔ بعد ازاں حکام اور صارفین نے وضاحت کی کہ یہ پروازیں یومِ پاکستان کی مرکزی پریڈ کی ابتدائی ریہرسل کا حصہ ہیں، جو ہر سال 23 مارچ سے قبل کی جاتی ہیں۔
یومِ پاکستان 23 مارچ 1940 کی قراردادِ لاہور کی یاد میں منایا جاتا ہے، جب برصغیر کے مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن کا مطالبہ پیش کیا گیا تھا۔ اسی مناسبت سے ہر سال اسلام آباد میں فوجی پریڈ منعقد ہوتی ہے جس میں مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جدید ہتھیاروں اور فضائی طاقت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق پریڈ سے قبل کئی ہفتوں تک فضائی اور زمینی مشقیں جاری رہتی ہیں تاکہ تقریب کے دوران مکمل ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری نوٹم کے مطابق لاہور اور کراچی کی فضائی حدود کے مخصوص حصے 3 مارچ سے 31 مارچ 2026 تک روزانہ صبح 9 بجے سے دوپہر 3 بجے تک عارضی طور پر محدود رکھے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندی جنگی طیاروں کی تربیتی پروازوں، ایروبٹک مشقوں اور پریڈ کی تیاریوں کیلئے ضروری ہوتی ہے تاکہ کمرشل پروازوں اور فوجی سرگرمیوں کے درمیان محفوظ فاصلہ برقرار رکھا جا سکے۔
پاکستان ایئر فورس حالیہ برسوں میں اپنے فضائی بیڑے کو جدید بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔ جے-10 سی لڑاکا طیارے چین کے تعاون سے حاصل کئے گئے جدید ملٹی رول طیارے ہیں جو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، جدید ریڈار اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹم سے لیس ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ان طیاروں کی شمولیت سے فضائیہ کی دفاعی اور جارحانہ صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خصوصاً خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں۔
پاکستان ایئر فورس کے بیڑے میں جے ایف-17 تھنڈر، ایف-16 اور دیگر طیارے بھی شامل ہیں جو یومِ پاکستان پریڈ میں باقاعدگی سے حصہ لیتے ہیں۔ ماضی میں معاشی حالات یا سکیورٹی خدشات کے باعث بعض سال تقریبات محدود پیمانے پر منعقد کی گئیں، تاہم حالیہ برسوں میں دوبارہ مکمل پریڈ کا انعقاد شروع کیا گیا ہے جس میں فضائی مظاہرے خصوصی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ کم بلندی پر پروازوں اور تیز آوازوں سے شہریوں میں خوف پیدا ہونا معمول کی بات ہے، لیکن یہ مشقیں مکمل طور پر شیڈول کے مطابق ہوتی ہیں اور عوام کیلئے کسی خطرے کا باعث نہیں ہوتیں۔ سوشل میڈیا پر بھی بعد ازاں متعدد صارفین نے وضاحت کی کہ لاہور میں ہونے والی پروازیں سالانہ روایت کا حصہ ہیں اور پریشانی کی کوئی ضرورت نہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یومِ پاکستان پریڈ کی تیاریاں نہ صرف قومی دن کی تقریبات کا حصہ ہوتی ہیں بلکہ یہ پاکستان ایئر فورس کی عملی تیاری، فضائی ہم آہنگی اور جدید دفاعی صلاحیتوں کے مظاہرے کا اہم موقع بھی سمجھی جاتی ہیں، اور اسی مقصد کے تحت جے-10 سی سمیت دیگر جنگی طیاروں کی مشقیں آئندہ دنوں میں بھی جاری رہیں گی۔
UrduLead UrduLead