جمعہ , جون 12 2026

کیمیکلز سے تیار آم شیک صحت کے لیے خطرہ

گرمیوں کے موسم میں آم کا شیک پاکستانیوں کی پسندیدہ مشروبات میں شمار ہوتا ہے، تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ بعض دکاندار منافع بڑھانے کے لیے آم کے شیک میں مصنوعی فلیورز، کیمیائی رنگوں اور سستے مصنوعی سویٹنرز کا استعمال کر رہے ہیں، جو انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کئی علاقوں میں فروخت ہونے والے آم شیکس میں تازہ آم کی مقدار کم جبکہ مصنوعی مینگو ایسنس، رنگ اور غیر معیاری مٹھاس زیادہ شامل کی جاتی ہے۔ بعض اوقات چینی کی جگہ مصنوعی سویٹنرز یا کم معیار کے میٹھے کیمیکلز استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ لاگت کم اور منافع زیادہ حاصل کیا جا سکے۔

غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر معیاری مصنوعی رنگ اور فلیورز معدے کی خرابی، الرجی، سر درد، جگر اور گردوں کے مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔ مسلسل استعمال سے بچوں اور بزرگوں میں صحت کے پیچیدہ مسائل پیدا ہونے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ بعض غیر منظور شدہ سویٹنرز خون میں شوگر کی سطح اور جسمانی میٹابولزم پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سڑک کنارے ٹھیلوں اور غیر رجسٹرڈ دکانوں پر فروخت ہونے والے آم شیکس میں استعمال ہونے والا دودھ بھی بعض اوقات غیر معیاری یا مصنوعی اجزا پر مشتمل ہوتا ہے، جس سے غذائی زہر خورانی اور آنتوں کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خصوصاً شدید گرمی کے موسم میں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین آم شیک خریدتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ شیک تازہ آم اور معیاری دودھ سے تیار کیا گیا ہو۔ غیر معمولی چمکدار رنگ، حد سے زیادہ میٹھا ذائقہ یا مصنوعی خوشبو ایسے مشروبات میں کیمیکلز کی موجودگی کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

عوامی صحت کے ماہرین نے فوڈ اتھارٹیز سے مطالبہ کیا ہے کہ گرمیوں کے دوران فروخت ہونے والے مشروبات کی باقاعدہ جانچ کی جائے اور غیر معیاری اجزا استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شہریوں کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ آم کا شیک گھر میں تازہ آم، خالص دودھ اور مناسب مقدار میں چینی استعمال کرکے تیار کیا جائے، کیونکہ قدرتی اجزا سے تیار کردہ مشروبات نہ صرف زیادہ غذائیت رکھتے ہیں بلکہ صحت کے لیے بھی محفوظ ہوتے ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ہفتہ وار مہنگائی میں اضافہ: رپورٹ

ٹماٹر اور ایل پی جی مہنگی پاکستان بیورو شماریات (PBS) کی جانب سے جاری کردہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے