
پاکستان میں گرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی پھلوں کا بادشاہ آم بازاروں اور گھروں کی رونق بن جاتا ہے۔ ملک بھر میں اس وقت آم کی مختلف اقسام دستیاب ہیں جن میں سندھڑی، چونسہ، انور رٹول اور لنگڑا شامل ہیں، جو نہ صرف ذائقے میں منفرد ہیں بلکہ غذائیت کے اعتبار سے بھی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
ماہرینِ صحت کے مطابق Mango وٹامن اے، وٹامن سی، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے، جو جسم کی قوتِ مدافعت بڑھانے، جلد کی صحت بہتر بنانے اور ہاضمے کو مضبوط کرنے میں مدد دیتا ہے۔ آم میں موجود قدرتی شکر فوری توانائی فراہم کرتی ہے، جس کے باعث یہ گرمیوں میں جسمانی کمزوری کو کم کرنے میں معاون سمجھا جاتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب مقدار میں آم کا استعمال دل کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے، جبکہ اس میں موجود غذائی اجزاء آنکھوں کی بینائی بہتر بنانے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔
تاہم ماہرین نے آم کے استعمال میں احتیاط پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق زیادہ مقدار میں آم کھانے سے خون میں شکر کی سطح بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں کو اس کے استعمال میں اعتدال اختیار کرنا چاہیے۔ اسی طرح رات کے وقت یا خالی پیٹ زیادہ آم کھانے سے بعض افراد کو معدے کی خرابی یا بدہضمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
فوڈ سیفٹی ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ غیر قدرتی طریقے سے پکائے گئے آم، جن میں کیمیکل یا کیلشیم کاربائیڈ کا استعمال کیا گیا ہو، صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ہمیشہ تازہ اور قدرتی طور پر پکے ہوئے آم کا انتخاب کریں اور اچھی طرح دھو کر استعمال کریں۔
مجموعی طور پر آم نہ صرف پاکستانی ثقافت اور موسمِ گرما کی پہچان ہے بلکہ اعتدال کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ ایک صحت بخش اور توانائی بخش پھل ثابت ہوتا ہے۔
UrduLead UrduLead