
معروف اداکار، پروڈیوسر اور ہدایت کار جاوید شیخ نے اپنے 50 سال سے زائد پر محیط شاندار فنی سفر کے نشیب و فراز، جدوجہد اور کامیابیوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی دوسروں سے حسد نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ دی۔
نجی ٹی وی کے ٹاک شو “گپ شپ” میں گفتگو کرتے ہوئے جاوید شیخ نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی پہلی فلم “دھماکہ” 1973 میں ریلیز ہوئی، تاہم باکس آفس پر کامیاب نہ ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد تقریباً ایک دہائی تک مسلسل جدوجہد کرنا پڑی اور اس دوران انہوں نے انشورنس کمپنی میں کلرک کی ملازمت کی، گاڑیوں کا کاروبار کیا، جبکہ ریڈیو، تھیٹر اور ٹیلی ویژن پر بھی کام جاری رکھا۔
انہوں نے بتایا کہ بھارتی فلم “بیوی ہو تو ایسی” کے دوران انہیں فلم سے نکال دیا گیا تھا، جو ان کی زندگی کا ایک تلخ تجربہ تھا۔ ان کے بقول والد بھی ابتدا میں ان کے فلمی کیریئر کے حق میں نہیں تھے۔ “جب ہیرو بنا تو والد نے گلے لگایا، لیکن پہلی فلم ناکام ہوئی تو کہا کہ یہ کام چھوڑ دو۔”
جاوید شیخ نے کہا کہ بعد ازاں “ان کہی”، “کبھی الوداع نہ کہنا” اور دیگر کامیاب منصوبوں نے ان کے کیریئر کو نئی سمت دی۔ انہوں نے بالی ووڈ فلم “اوم شانتی اوم” میں شاہ رخ خان کے والد کا کردار ادا کرنے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اس فلم کے لیے محض ایک روپیہ معاوضہ طے کیا کیونکہ یہ ان کے لیے عزت اور اعزاز کی بات تھی۔ انہوں نے کہا کہ شاہ رخ خان اور ہدایت کار فرح خان نے انہیں بھرپور احترام اور محبت دی۔
سینئر اداکار نے محمد علی، ندیم، بابرہ شریف، نیلی اور مرحوم اسماعیل تارا سمیت اپنے ہم عصر فنکاروں کے ساتھ طویل رفاقت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے اسماعیل تارا کو اپنی جدوجہد کے دنوں کا قریبی ساتھی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ گزارا گیا وقت ہمیشہ یادگار رہے گا۔
جاوید شیخ نے بتایا کہ وہ آج بھی فلمی سرگرمیوں میں بھرپور انداز سے مصروف ہیں اور مختلف منصوبوں کے سلسلے میں انڈونیشیا، امریکہ، دبئی، کراچی، اسلام آباد اور لندن کے سفر کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی نئی فلم “ڈبل سیاپا” کی شوٹنگ ان دنوں لندن میں جاری ہے۔
اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے جاوید شیخ نے کہا کہ وہ منظم طرزِ زندگی پر یقین رکھتے ہیں، جلدی سوتے اور جلدی جاگتے ہیں، وقت پر کھانا کھاتے ہیں اور نظم و ضبط کو کامیابی کی بنیاد سمجھتے ہیں۔
انہوں نے نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا، “میں نے کبھی دوسروں سے حسد نہیں کیا۔ جو میرے سامنے تھا، اس سے بہتر کرنے کی کوشش کی، اور یہی سوچ مجھے مسلسل آگے بڑھاتی رہی۔”
UrduLead UrduLead