بدھ , جولائی 22 2026

پیٹرول، ڈیزل مہنگا، نئی قیمتوں کا اطلاق آج سے

حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات صارفین تک منتقل کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آج (22 جولائی) سے ہوگا۔

پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 93 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 320 روپے 73 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 367 روپے 21 پیسے فی لیٹر کا ہو گیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ ردوبدل عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور خلیج فارس میں دوبارہ پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث کیا گیا ہے۔

اس سے قبل ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 3 اپریل کو 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔ بعد ازاں عالمی منڈی میں کچھ استحکام آنے پر اس میں کمی دیکھی گئی۔ اسی طرح پیٹرول بھی 3 اپریل کو 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر کی ریکارڈ سطح تک پہنچا تھا۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے پیش نظر اب ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ ان کے مطابق وفاقی کابینہ اور وزیراعظم نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو عالمی قیمتوں کے مطابق روزانہ قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔

حکومت مارچ کے آغاز سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لے رہی تھی۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث ممکنہ سپلائی خدشات کے پیش نظر ایندھن کی بچت کے اقدامات بھی کیے گئے تھے، جبکہ اپریل میں مخصوص طبقوں کے لیے سبسڈی پر مبنی ریلیف پیکیج بھی متعارف کرایا گیا تھا۔

دوسری جانب آل پاکستان ڈیلرز ایسوسی ایشن نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف احتجاجی لائحہ عمل تیار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں اضافہ براہ راست نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں اور متوسط طبقے کے روزمرہ اخراجات کو متاثر کرتا ہے۔ دوسری جانب ڈیزل مہنگا ہونے سے بھاری ٹرانسپورٹ، زرعی شعبے، بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل حکومت کے لیے سب سے زیادہ ریونیو فراہم کرنے والی پیٹرولیم مصنوعات ہیں۔ ان کی ماہانہ فروخت تقریباً 7 لاکھ سے 8 لاکھ ٹن کے درمیان رہتی ہے، جبکہ مٹی کے تیل کی ماہانہ طلب تقریباً 10 ہزار ٹن ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

روزانہ بلیک کافی دل کی بیماریوں میں مددگار، تحقیق

ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روزانہ اعتدال کے ساتھ بلیک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے