اتوار , ستمبر 6 2026
بریکنگ نیوز

آئی پی پیز کو 3 ماہ میں 472 ارب روپے کیپسٹی پیمنٹس، عوام کے بلوں سے وصولی

حکومتی دستاویز کے مطابق اپریل سے جون کے دوران ملک بھر کے 105 آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو آئی پی پیز کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں مجموعی طور پر 472 ارب روپے ادا کیے گئے، جو ملک بھر کے بجلی صارفین سے بلوں کے ذریعے وصول کی گئی رقم ہے۔

کیپسٹی پیمنٹس کا بڑھتا ہوا بوجھ

دستاویز کے مطابق تین ماہ کی مذکورہ مدت میں چائنا فیول انرجی کو 32 ارب 81 کروڑ، شنگھائی انرجی کو 26 ارب، نیوکلیئر ون کو 36 ارب اور نیوکلیئر پاور پلانٹ تھری کو 37 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔ اسی طرح پورٹ قاسم پاور کو 26 ارب، تھر کول بلاک ون کو 29 ارب جبکہ واپڈا ہائیڈل کو 35 ارب روپے آئی پی پیز کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں دیے گئے۔

واضح رہے کہ کیپسٹی پیمنٹس وہ رقم ہوتی ہے جو پاور پلانٹس کو بجلی پیدا کرنے یا نہ کرنے سے قطع نظر، محض نصب صلاحیت برقرار رکھنے کے عوض ادا کی جاتی ہے، جو گردشی قرضے میں اضافے کی بڑی وجہ سمجھی جاتی ہے۔

سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل

سوشل میڈیا صارفین نے ان اعداد و شمار پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ بہت سے صارفین نے سوال اٹھایا کہ جب بجلی استعمال ہی نہیں ہو رہی تو بھاری رقوم کیوں ادا کی جا رہی ہیں۔ صارفین نے مہنگے بجلی بلوں اور کیپسٹی چارجز کے درمیان تعلق پر بھی بات کی اور حکومت سے آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی کا مطالبہ دہرایا۔

ماہرین کا تجزیہ

توانائی امور کے ماہرین کے مطابق آئی پی پیز کیپسٹی پیمنٹس کا حجم ہر سال بڑھ رہا ہے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری پہلے ہی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پاور کو بتا چکے ہیں کہ رواں سال آئی پی پیز کے کیپسٹی چارجز میں مزید 100 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے اور مجموعی تخمینہ 1900 ارب کے بجائے 2 ہزار ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت آئی پی پیز کے ساتھ طے شدہ معاہدے یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتی کیونکہ ان معاہدوں پر خود حکومتی ضمانت موجود ہے، تاہم بجلی کی زائد پیداواری صلاحیت اور طلب میں فرق کے باعث یہ ادائیگیاں صارفین پر بوجھ بنتی جا رہی ہیں۔

اہم اعداد و شمار

آئی پی پی کیپسٹی پیمنٹ (اپریل-جون)
مجموعی (105 آئی پی پیز) 472 ارب روپے
چائنا فیول انرجی 32 ارب 81 کروڑ روپے
نیوکلیئر پاور پلانٹ تھری 37 ارب روپے
نیوکلیئر ون 36 ارب روپے
واپڈا ہائیڈل 35 ارب روپے
تھر کول بلاک ون 29 ارب روپے
شنگھائی انرجی 26 ارب روپے
پورٹ قاسم پاور 26 ارب روپے

About Aftab Ahmed

Check Also

پی ٹی اے کی ای سم قیمت کے فیصلے کی دستاویز جس میں نئی زیادہ سے زیادہ حد ظاہر کی گئی ہے

پی ٹی اے ای سم قیمت کی حد: بھارت، برطانیہ اور آسٹریلیا میں مفت ای سم ہونے کے باوجود پاکستان میں 1500 روپے کی حد مقرر

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے فزیکل سم سے ای سم میں تبدیلی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے