
وفاقی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ نظرثانی شدہ پیٹرولیم قیمتوں کے طریقہ کار کی روشنی میں، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی ایکس ڈپو پٹرول ڈیزل قیمتیں 5 ستمبر سے 7 ستمبر 2026 تک کے لیے نئے سرے سے مقرر کر دی ہیں۔
وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 3.74 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جبکہ موٹر اسپرٹ یعنی پٹرول (MS) کی قیمت میں 3.13 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔
پٹرول ڈیزل قیمتوں میں تبدیلی کا پس منظر
پاکستان میں پٹرول ڈیزل قیمتیں ہر پندرہ روز بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں، روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی لاگت کی بنیاد پر نظرثانی کی جاتی ہیں۔
رواں برس کے دوران صارفین کو بار بار قیمتوں میں کمی و بیشی کا سامنا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ عالمی تیل منڈی میں غیر یقینی صورتحال اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی نقل و حرکت بتائی جاتی ہے۔
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعتی شعبے کے لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ بھاری ٹرانسپورٹ اور زرعی مشینری بڑی حد تک ڈیزل پر انحصار کرتی ہے، جبکہ پٹرول کی قیمت میں کمی سے موٹرسائیکل اور کار صارفین کو معمولی ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل
نئی قیمتوں کے اعلان کے فوراً بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ ایک بڑی تعداد نے ڈیزل کی قیمت میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے سبزیوں، پھلوں اور اشیائے خورونوش کی نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب کچھ صارفین نے پٹرول کی قیمت میں کمی کو خوش آئند قرار دیا، تاہم عمومی رائے یہی رہی کہ ڈیزل مہنگا ہونے سے مجموعی افراطِ زر پر منفی اثر پڑے گا۔ صارفین کی بڑی تعداد نے حکومت سے پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں میں کمی کا مطالبہ بھی دہرایا۔
ماہرین کی رائے اور تجزیہ
توانائی و معاشی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں یہ مخالف سمت کا رجحان — ایک میں اضافہ اور دوسرے میں کمی — عالمی منڈی میں دونوں مصنوعات کی الگ الگ قیمتوں کے فرق اور مقامی ڈیمانڈ سپلائی کی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق چونکہ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کی بنیادی ضرورت ہے، اس لیے اس کی قیمت میں ہر اضافہ براہ راست عام صارف تک پہنچنے والی اشیاء کی قیمتوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔
ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں شفافیت برقرار رکھی جائے اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے کے لیے متبادل اقدامات پر غور کیا جائے۔
خلاصہ جدول (روپے فی لیٹر)
| مصنوعات | موجودہ قیمت (04.09.2026) | نئی قیمت (05.09.2026) | اضافہ/کمی |
|---|---|---|---|
| ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) | 374.31 | 378.05 | 3.74+ |
| موٹر اسپرٹ / پٹرول (MS) | 349.00 | 345.87 | 3.13- |
UrduLead UrduLead