
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی سب سے بڑی خدمات فراہم کرنے والوں میں شامل اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی اور اینتھروپک کے کلاؤڈ کو 3 ستمبر 2026 کی صبح بیک وقت سروس میں تعطل کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ جی پی ٹی کلاؤڈ تعطل ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کے چیٹ بوٹ گروک کو بھی متاثر کر گیا، جس سے دنیا بھر میں لاکھوں صارفین کو ایک ہی وقت میں تین بڑی اے آئی سروسز سے محروم رہنا پڑا۔
آفیشل رپورٹس کے مطابق یہ سلسلہ امریکی وقت کے مطابق صبح تقریباً 7:43 سے 7:57 بجے (پی ٹی) کے درمیان شروع ہوا۔ اوپن اے آئی کی جانب سے بتایا گیا کہ ایک “روٹنگ ایرر” کی وجہ سے چیٹ جی پی ٹی اور کوڈیکس متعدد پلیٹ فارمز پر ناقابلِ رسائی ہو گئے، جسے صبح 8:17 بجے تک حل کر لیا گیا۔
دوسری جانب اینتھروپک نے بتایا کہ کلاؤڈ کو انفراسٹرکچر کے مسئلے کے باعث جزوی تعطل کا سامنا کرنا پڑا، جس کا اثر کلاؤڈ ڈاٹ اے آئی، کلاؤڈ کوڈ، کلاؤڈ کوورک اور اے پی آئی تک پھیلا۔
مصنوعی ذہانت کی صنعت کے لیے نادر واقعہ
ماہرین کے مطابق تین بڑی اے آئی کمپنیوں کی سروسز کا بیک وقت متاثر ہونا ایک غیر معمولی واقعہ ہے، کیونکہ عام طور پر انفرادی پلیٹ فارمز میں تعطل معمول کی بات ہے، مگر ایک ہی وقت میں تینوں کا بیٹھ جانا شاذ و نادر دیکھنے میں آتا ہے۔
کلاؤڈ کے سٹیٹس صفحے کے مطابق کلاؤڈ مِتھوس 5.1، کلاؤڈ فیبل 5.1 اور کلاؤڈ اوپس 5 ماڈلز زیادہ متاثر ہوئے، جبکہ باقی ماڈلز نسبتاً جلد معمول پر آ گئے۔
رپورٹس میں کلاؤڈ فیئر اور مائیکروسافٹ ایزور کی جانب سے بھی اسی دوران خرابیوں کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس جی پی ٹی کلاؤڈ تعطل کی حتمی مشترکہ وجہ تاحال باضابطہ طور پر واضح نہیں کی گئی۔ گوگل کے جیمنائی نے اس دوران کوئی باضابطہ تعطل رپورٹ نہیں کیا، اگرچہ کچھ صارفین نے وہاں بھی مسائل کی نشاندہی کی۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
جی پی ٹی کلاؤڈ تعطل کے دوران سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے بھرپور ردعمل دیکھنے میں آیا۔ ڈاؤن ڈیٹیکٹر جیسی خدمات پر ہزاروں صارفین نے شکایات درج کروائیں، جبکہ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لوگ مذاق میں لکھتے رہے کہ “ستارے بیک وقت آپس میں مل گئے ہیں۔”
کئی صارفین نے روزمرہ کے کام، تحقیق اور کوڈنگ کے لیے ان سروسز پر انحصار کرنے کے خطرات پر بھی بات کی، جبکہ کچھ نے اسے مزاحیہ انداز میں لیا اور تعطل کو ایپل کی مصنوعات کی لانچنگ سے پہلے پیش آنے والی رکاوٹوں سے تشبیہ دی۔
ماہرین کا تجزیہ
ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ جی پی ٹی کلاؤڈ تعطل اس بات کی یاد دہانی ہے کہ متعدد اے آئی فراہم کنندگان پر انحصار کرنے کی حکمتِ عملی بھی اکثر ایک ہی مشترکہ کلاؤڈ یا نیٹ ورک انفراسٹرکچر پر آ کر ٹوٹ جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کاروباری ادارے “ایک سروس ڈاؤن ہو تو دوسری استعمال کریں” کی حکمتِ عملی پر انحصار کر رہے ہیں، تو یہ واقعہ اس منصوبہ بندی کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔
رسک اور کمپلائنس ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک کمپنیاں مشترکہ انحصار (shared dependency) کے بارے میں مکمل شفافیت سے آگاہ نہیں کرتیں، اس نوعیت کے بیک وقت تعطل کا خطرہ برقرار رہے گا۔
UrduLead UrduLead