
پاکستان ادارہ شماریات (PBS) کے جاری کردہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان تجارتی خسارہ اگست 2026 میں بڑھ کر 3.17 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں برآمدات کے مقابلے تیز تر اضافہ ہے، اور یہ سلسلہ لگاتار دوسرے مہینے بھی جاری رہا۔
ادارہ شماریات کے تجارتی اعداد و شمار کے شعبے کی رپورٹ کے مطابق اگست 2026 میں برآمدات 2,508 ملین ڈالر (696,407.65 ملین روپے) رہیں، جبکہ درآمدات 5,678 ملین ڈالر (1,578,744 ملین روپے) ریکارڈ کی گئیں۔ اس طرح مہینے کا پاکستان تجارتی خسارہ 3,170 ملین ڈالر تک پہنچ گیا، جو ملک کی درآمدی بل اور برآمدی آمدنی کے درمیان بڑھتے فرق کی نشاندہی کرتا ہے۔
پورے مالی سال میں بڑھتا فرق
ماہ بہ ماہ بنیاد پر جولائی 2026 کے مقابلے میں برآمدات اور درآمدات دونوں میں کمی دیکھی گئی — برآمدات میں 15.01 فیصد اور درآمدات میں 17.69 فیصد کمی ہوئی، جس سے خسارہ گزشتہ ماہ کے 3,947 ملین ڈالر سے 19.69 فیصد کم ہوا۔ تاہم سالانہ اور مجموعی رجحانات ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
اگست 2025 کے مقابلے میں برآمدات میں 3.81 فیصد اضافہ ہوا جبکہ درآمدات اس سے زیادہ تیزی سے، یعنی 7.38 فیصد بڑھیں، جس کے نتیجے میں سالانہ بنیاد پر تجارتی خسارے میں 10.38 فیصد اضافہ ہوا۔
جولائی تا اگست 2026 کے مجموعی عرصے میں برآمدات 5,459 ملین ڈالر اور درآمدات 12,575 ملین ڈالر رہیں، جس سے دو ماہ کا پاکستان تجارتی خسارہ 7,116 ملین ڈالر تک پہنچ گیا — جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 6,025 ملین ڈالر کے مقابلے میں 18.11 فیصد زیادہ ہے۔
پی بی ایس نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ وفاقی بورڈ آف ریونیو، اسلام آباد کے ڈائریکٹوریٹ آف ریفارمز اینڈ اسٹیٹسٹکس (DRS) کا اگست 2026 کا ڈیٹا ابھی موصول نہیں ہوا، لہٰذا یہ اعداد و شمار ابتدائی نوعیت کے ہیں اور ان میں نظرثانی ممکن ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
تازہ تجارتی اعداد و شمار جاری ہوتے ہی ماہرین معیشت، تاجروں اور سوشل میڈیا صارفین کے درمیان بحث چھڑ گئی، جن میں سے کئی نے بڑھتے پاکستان تجارتی خسارہ کو ملک کے بیرونی کھاتوں کے استحکام کے لیے ایک نیا امتحان قرار دیا۔
سوشل پلیٹ فارمز پر تبصرہ نگاروں نے درآمدات میں تیزی کو برآمدات کے مقابلے میں تشویشناک قرار دیا، جبکہ کچھ نے ماہ بہ ماہ کمی کو عارضی ریلیف قرار دیا۔ کاروباری حلقوں اور تجارتی تنظیموں کی جانب سے مزید ردعمل متوقع ہے جب مکمل FBR ڈیٹا سامنے آئے گا۔
ماہرین کا تجزیہ
معاشی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ درآمدات اور برآمدات کی شرح نمو کے درمیان بڑھتا فرق اس ڈیٹا کا سب سے اہم پہلو ہے۔ برآمدات میں سالانہ 3.81 فیصد اضافہ بیرونی تجارت میں کچھ حد تک استحکام ظاہر کرتا ہے، لیکن درآمدات میں زیادہ تیز 7.38 فیصد اضافہ توانائی، مشینری یا صارفی طلب پر مبنی درآمدات کے دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر مجموعی رجحان — رواں مالی سال میں اب تک 18 فیصد سے زائد اضافے والا خسارہ — برقرار رہا، تو یہ زرمبادلہ ذخائر اور شرح مبادلہ پر دباؤ بڑھا سکتا ہے، جب تک کہ ترسیلات زر یا برآمدی شعبے کی مراعات میں اضافہ اس کا ازالہ نہ کرے۔
UrduLead UrduLead