جمعرات , ستمبر 3 2026

وزیرِ خزانہ اورنگزیب کا عالمی اعتماد بحال ہونے کا دعویٰ

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکس کے نظام میں جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے اور ٹیکس کا دائرہ کار مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے زیرِ اہتمام ٹیکس اصلاحات سے متعلق ہائی لیول بین الاقوامی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے 3 ارب ڈالرز کا دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ جاری کیا ہے، جو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا بانڈ ٹرانزیکشن ہے۔

اصلاحات، ٹیکس وصولی اور یورو بانڈ کی تفصیلات

محمد اورنگزیب کے مطابق اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس وصولی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور غیر قانونی معیشت کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکس کا جی ڈی پی کے تناسب سے حجم 8.1 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد ہو چکا ہے، تاہم اس ضمن میں مزید کام کرنا باقی ہے۔

یورو بانڈ کے حوالے سے وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ یہ کوئی عارضی یا اچانک فیصلہ نہیں بلکہ 3 سالہ درمیانی مدت کی “جی ایم ٹی این” (Global Medium Term Note) حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ٹرانزیکشن میں سرمایہ کاروں کی جانب سے تقریباً 6 ارب ڈالر کی بولیاں موصول ہوئیں، جو جاری کردہ رقم سے تقریباً دگنی تھیں۔ اس میں ساڑھے 5 سالہ مدت کے لیے 1.75 ارب ڈالر کا بانڈ 7.50 فیصد کوپن ریٹ پر، جبکہ 10 سالہ مدت کے لیے 1.25 ارب ڈالر کا بانڈ 7.90 فیصد کوپن ریٹ پر جاری کیا گیا۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ رقم بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے اور پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال ہو گی۔

وزیرِ خزانہ نے مزید بتایا کہ اپریل 2025ء سے اب تک پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں 3 مرتبہ بہتری آ چکی ہے، جبکہ ایشیاء، مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکا کے سرمایہ کاروں نے اس یورو بانڈ میں دلچسپی ظاہر کی۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد صرف موجودہ صورتِ حال تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل پر بھی ہے۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ حکومت مستقبل میں سکوک، روپے میں مالیت کے حامل ڈالر سیٹلڈ بانڈز اور پانڈا بانڈز کے اجراء پر بھی غور کر رہی ہے۔

سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل

پاکستانی میڈیا اداروں اور صارفین نے اس اعلان پر ملا جلا ردعمل ظاہر کیا:

  • سرکاری اور خبر رساں اداروں نے وزارتِ خزانہ کے آفیشل بیانات کو نمایاں انداز میں شائع کیا، جن میں اسے “پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بین الاقوامی بانڈ ٹرانزیکشن” قرار دیا گیا۔
  • بعض معاشی تجزیہ کاروں اور صارفین نے سوال اٹھایا کہ نیا قرض دراصل پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے لیا جا رہا ہے، جو ملکی خزانے پر بوجھ میں مسلسل اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
  • کچھ حلقوں نے 7.5 سے 7.9 فیصد کی شرحِ سود کو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نسبتاً بلند قرار دیا، جبکہ حکومتی حلقوں نے اسے موجودہ عالمی حالات میں “مسابقتی قیمت” کہا۔
  • مثبت رائے رکھنے والے صارفین نے اسے آئی ایم ایف پروگرام کے بعد پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ رسائی اور بہتر ساکھ کی علامت قرار دیا۔

ماہرین کی رائے

مالیاتی امور کے ماہرین کے مطابق 3 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 6 ارب ڈالر کی طلب اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان کے میکرو اکنامک استحکام اور بہتر ہوتی کریڈٹ ریٹنگ پر یقین رکھتے ہیں۔

ماہرین یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ 10 سالہ ٹرانچ کے لیے مضبوط طلب طویل مدتی فنانسنگ کے حصول کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے، جو ماضی میں مشکل رہی ہے۔

تاہم بعض تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ نیا قرض مجموعی بیرونی قرضے کے حجم میں مزید اضافہ کرے گا، اور اصل امتحان یہ ہو گا کہ آیا ٹیکس اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط اس رفتار سے آگے بڑھتے ہیں کہ مستقبل میں اسی طرز کے قرضوں پر انحصار کم ہو سکے۔

وزارتِ خزانہ نے خود بھی تسلیم کیا ہے کہ اصلاحاتی عمل مکمل نہیں اور مالی نظم و ضبط، برآمداتی مسابقت اور پیداواریت جیسے شعبوں میں مزید کام درکار ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

Jazz World top 15 Bundles

جاز کا صارفین کو بڑا جھٹکا: مالی سال 2026 میں ٹاپ 15 بنڈلز کی قیمتوں میں اوسطاً 15.5 فیصد اضافہ

کم آمدنی والے صارفین سب سے زیادہ متاثر پاکستان کی معروف موبائل کمپنی جاز نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے