
پاکستان کرکٹ ٹیم نے خواتین ٹی20 ایشیا کپ 2026 میں اپنی مہم کا شاندار آغاز کرتے ہوئے تھائی لینڈ کو 35 رنز سے شکست دے دی، جس کے نتیجے میں تھائی لینڈ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔
پاکستان نے دبئی کی شدید گرمی میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 119 رنز بنائے، جس کے جواب میں تھائی لینڈ کی ٹیم مقررہ اوورز میں 84 رنز پر 8 وکٹیں گنوا بیٹھی۔

پس منظر
پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا جسے اس وقت غیر متوقع سمجھا گیا، تاہم میچ کے اختتام پر یہ حکمت عملی درست ثابت ہوئی۔ پچ سست اور نیچی تھی جس نے پاکستانی اسپن اٹیک کو بھرپور مدد فراہم کی۔ یہ تھائی لینڈ کے لیے ٹورنامنٹ میں تین میچوں میں دوسری شکست تھی۔
تھائی لینڈ کی اسپنر تھپاچا پُتھاوونگ نے میچ کے دوسرے ہی اوور میں ڈبل وکٹ میڈن اوور کرتے ہوئے شوال ذوالفقار اور گل فیروزہ کو آؤٹ کیا اور اسی دوران ٹی20 کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے کے اعتبار سے بھارت کی دیپتی شرما کو پیچھے چھوڑ دیا۔
پاکستان کی جانب سے منیبہ علی نے 52 گیندوں پر 54 رنز کی اننگز کھیلی اور صدف شمس کے ساتھ 54 رنز کی شراکت داری قائم کی، جبکہ طوبیٰ حسن نے آخری اوورز میں صرف چار گیندوں پر ناقابل شکست 12 رنز بنا کر ٹیم کے مجموعے کو مزید بہتر بنایا۔ جواب میں تھائی لینڈ کی بلے بازی سعدیہ اقبال اور نشرہ سندھو کے سامنے بے بس نظر آئی۔
سوشل میڈیا اور شائقین کا ردعمل
کرکٹ شائقین نے سوشل میڈیا پر پاکستانی اسپن باؤلرز کی تعریف کی اور فاطمہ ثنا کے ٹاس پر فیصلے کو دوراندیشی قرار دیا۔ تاہم کئی صارفین نے پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ٹیم کا دیرینہ مسئلہ قرار دیا۔
کچھ شائقین نے آئندہ میچ میں بھارت کے خلاف مقابلے کو ٹورنامنٹ کا اہم ترین معرکہ قرار دیتے ہوئے پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا۔
ماہرین کا تجزیہ
کرکٹ مبصرین کے مطابق پاکستان کی فتح کا سہرا بنیادی طور پر اسپن گیند بازی کے شاندار مظاہرے کو جاتا ہے، جبکہ بیٹنگ میں مسلسل ناکامی ایک تشویشناک پہلو ہے جسے مضبوط حریفوں کے خلاف نظرانداز نہیں کیا جا سکے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کمزور حریف کے خلاف یہ کامیابی حوصلہ افزا ضرور ہے، تاہم بھارت جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف پاکستان کو اپنی بیٹنگ حکمت عملی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔
UrduLead UrduLead