
پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (PLL) نے مائع قدرتی گیس کی خریداری کے ٹینڈر میں موصول ہونے والی مالی بولی کو مسترد کر دیا ہے، اس کے بعد کہ واحد شریک بولی دہندہ بی پی سنگاپور نے 4 سے 8 ستمبر کے کارگو کی ترسیل کے لیے 26.969 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پیش کی تھی، جسے ادارے نے مہنگا قرار دے کر مسترد کر دیا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی بولیوں کا اجراء یکم ستمبر 2026 پر کیا گیا تھا، جس میں بی پی سنگاپور واحد تکنیکی طور پر اہل اور کم ترین جائزہ شدہ بولی دہندہ کے طور پر سامنے آئی تھی — تاہم واحد بولی دہندہ ہونے کی صورتحال بالآخر اس پیشکش کی منظوری کے خلاف گئی۔
پس منظر
بولی کے جائزہ رپورٹ کے مطابق بی پی سنگاپور 4 سے 8 ستمبر 2026 کی ترسیل کی مدت کے لیے واحد بولی دہندہ تھی اور اسے تکنیکی طور پر اہل قرار دیا گیا تھا، جبکہ اس کی پیش کردہ قیمت 26.969 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کو کسی مقابلے کی عدم موجودگی کے باعث خودکار طور پر کم ترین جائزہ شدہ بولی قرار دیا گیا۔
پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004 کے قاعدہ 35 کے تحت خریداری کرنے والے اداروں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسی بولیوں کو مسترد کر سکتے ہیں جو مسابقتی قیمت پر نہ ہوں، خصوصاً ایسی صورتحال میں جہاں صرف ایک ہی بولی موصول ہوئی ہو۔
بولی مسترد کرنے کے بعد پی ایل ایل نے فوری طور پر مارکیٹ میں دوبارہ رجوع کرتے ہوئے ایک اور ایل این جی کارگو، جس کی مقدار 140,000 مکعب میٹر (پانچ فیصد کمی بیشی کے ساتھ) ہے، کے لیے تازہ بولیوں کی دعوت جاری کر دی ہے، جس کا ٹینڈر نمبر PLL/IMP/LNGT78-1 ہے اور ترسیل کی مدت 8 سے 12 ستمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
بولی دستاویزات پی ایل ایل کے اسلام آباد دفتر سے یا ای میل کے ذریعے 4 ستمبر 2026 تک حاصل کی جا سکتی ہیں، جبکہ بولیاں اسی تاریخ کو دوپہر 1400 بجے (پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم) تک جمع کرانا ہوں گی، اور مالی بولیوں کا اجراء اسی روز پی پی آر اے قوانین کے تحت کیا جائے گا۔
پی ایل ایل، جو حکومتِ پاکستان کی ملکیت ہے اور پورٹ قاسم، کراچی پر ڈیلیورڈ ایکس شپ (DES) بنیادوں پر ایل این جی درآمد کرنے کی مجاز ہے، نے پبلک پروکیورمنٹ رولز کے قاعدہ 33 کے تحت تمام بولیاں مسترد کرنے کا حق واضح طور پر محفوظ رکھا ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
ٹینڈر مسترد ہونے کی خبر پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے متعدد سوالات اٹھائے گئے، خصوصاً یہ کہ سابقہ بولی کے عمل میں صرف ایک ہی سپلائر نے حصہ کیوں لیا اور خریداری کے عمل میں شفافیت بڑھانے کے مطالبات سامنے آئے۔
کچھ صارفین نے پی ایل ایل کے مہنگی پیشکش مسترد کرنے کے فیصلے کو مالی احتیاط کی علامت قرار دے کر سراہا، جبکہ توانائی کے شعبے کے کچھ تجزیہ کاروں نے پاکستان کے اسپاٹ ایل این جی ٹینڈرز میں کم بولی دہندگان کی مسلسل شرکت پر تشویش کا اظہار کیا۔
ماہرین کا تجزیہ
توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق واحد بولی دہندہ والے ٹینڈرز اکثر خریداری کرنے والے اداروں کو مشکل صورتحال میں ڈال دیتے ہیں، کیونکہ مقابلے کی عدم موجودگی قیمتوں کو نیچے لانے کے لیے مارکیٹ کے دباؤ کے بغیر انہیں بلند سطح پر رکھ سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ایل ایل کی جانب سے 26.969 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی پیشکش مسترد کرنا اور اگلی ترسیل کی مدت کے لیے فوری طور پر نیا ٹینڈر جاری کرنا مارکیٹ کو دوبارہ جانچنے کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، تاہم اگر عالمی ایل این جی اسپاٹ قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں تو بولی دہندگان کی کمزور دلچسپی کا خطرہ بھی موجود رہے گا۔
UrduLead UrduLead