
جولائی میں فیول لاگت 38 فیصد بڑھ گئی
پاکستان میں بجلی کی پیداوار کی لاگت میں جولائی کے دوران گزشتہ سال کے مقابلے میں 38 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ اسپاٹ ایل این جی کی بلند قیمتیں اور بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہے۔
مقامی بروکریج اور ریسرچ فرم کے مطابق جولائی میں بجلی کی پیداوار 7 فیصد بڑھ کر اس مہینے کی تاریخ میں دوسری بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق جولائی میں پن بجلی، مقامی کوئلے اور درآمدی کوئلے سے بجلی کی پیداوار بھی ریکارڈ بلند سطح پر رہی۔
بجلی کی پیداوار کی لاگت میں اضافے کی ایک اہم وجہ ری گیسیفائیڈ لیکوئیفائیڈ نیچرل گیس (RLNG) اور فرنس آئل کا زیادہ استعمال ہے، جبکہ قطر سے معمول کی ایل این جی سپلائی متاثر ہونے کے باعث پاکستان کو اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی ایل این جی خریدنا پڑی۔
مشرق وسطیٰ میں سپلائی میں خلل اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث پاکستان نے جولائی اور اگست کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متعدد ایل این جی ٹینڈرز جاری کیے۔ اس دوران ملک کو عالمی مارکیٹ میں بلند قیمتوں پر ایل این جی خریدنا پڑی۔
جولائی کے وسط میں سرکاری کمپنی پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (PLL) نے ٹوٹل انرجیز گیس اینڈ پاور لمیٹڈ کی جانب سے 27 اور 28 جولائی کی ترسیل کے لیے اسپاٹ ایل این جی کارگو کی پیشکش قبول کی، جس کی قیمت 21.88 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (MMBtu) تک پہنچ گئی۔
یہ قیمت ایران جنگ کے آغاز اور عالمی ایل این جی سپلائی میں خلل کے بعد پاکستان کی جانب سے ادا کی جانے والی بلند ترین قیمتوں میں شامل ہے۔
اس سے قبل پاکستان نے ایسی بلند قیمت پر ایل این جی آخری مرتبہ 2022 میں خریدی تھی، جب روس یوکرین جنگ کے بعد یورپ کو روسی گیس کی سپلائی میں کمی سے ایشیائی اسپاٹ ایل این جی مارکیٹ میں قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھیں۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق بلند RLNG اور فرنس آئل کا استعمال، مہنگی اسپاٹ ایل این جی پر انحصار اور عالمی سطح پر بلند تیل کی قیمتوں نے جولائی میں بجلی کی پیداوار کی مجموعی لاگت میں نمایاں اضافہ کیا۔
UrduLead UrduLead