مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے باعث قیمتوں میں اضافہ برقرار
پاکستان نے توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا ایک کارگو خرید لیا ہے، جس کی قیمت علاقائی اسپاٹ مارکیٹ کے مقابلے میں تقریباً ایک ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو زیادہ ادا کی گئی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (PLL) نے فوری ترسیل کے لیے ایل این جی کا ایک کارگو 16.74 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے نرخ پر خریدا، جبکہ ایشیائی اسپاٹ مارکیٹ میں اسی وقت قیمتیں تقریباً 15 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی سطح پر تھیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ کارگو عالمی توانائی کمپنی بی پی (BP) نے فراہم کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیج فارس سے ایل این جی کی سپلائی تاحال مکمل طور پر بحال نہ ہونے اور مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے اثرات برقرار رہنے کے باعث عالمی منڈی میں قیمتوں پر دباؤ موجود ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کو زیادہ قیمت پر ایل این جی خریدنا پڑی۔
پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے قطر کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں کے تحت ایل این جی درآمد کرتا رہا ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے دوران قطری ایل این جی کی پیداوار اور برآمدات متاثر ہونے سے ملک کو گیس کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال نے بجلی کی لوڈشیڈنگ، ایندھن کی قلت اور متبادل سپلائی کے حصول میں مشکلات پیدا کیں، کیونکہ عالمی منڈی میں ایل این جی کی قیمتیں بھی نمایاں طور پر بڑھ گئیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اپریل سے جون کے دوران فوری ضرورت کے تحت ایل این جی کے چار ٹینڈرز جاری کیے، تاہم بعض مواقع پر موصول ہونے والی کم ترین بولیاں بھی زیادہ ہونے کے باعث مسترد کر دی گئیں۔
مئی 2026 میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 11.7 فیصد تک پہنچ گئی، جس کی ایک بڑی وجہ عالمی توانائی قیمتوں میں اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی عرصے میں بنیادی مہنگائی (Core Inflation) میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان کو مئی میں تقریباً دو ماہ بعد امریکہ سے 140 ہزار مکعب میٹر پر مشتمل ایل این جی کا ایک کارگو موصول ہوا تھا، جس کی قیمت 18.40 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ادا کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے رواں ماہ مزید ایل این جی کی فوری ضرورت کے پیش نظر ایک اور ٹینڈر بھی جاری کیا، جس میں 29 جون تک بولیاں طلب کی گئیں، جبکہ کارگو کی ترسیل 30 جون سے 4 جولائی کے درمیان مطلوب تھی۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں کا انحصار مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، قطر سے سپلائی کی بحالی اور عالمی طلب میں تبدیلی پر ہوگا، جبکہ پاکستان کو آئندہ بھی ایل این جی کی درآمدات کے لیے محتاط حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔
UrduLead UrduLead