
آٹھ سال بعد عالمی میدان میں واپسی
ایمسٹل وین (نیدرلینڈز): مردوں کے ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کا شاندار آغاز آج، 15 اگست کو ہو رہا ہے، اور پاکستان ہاکی ٹیم اپنی مہم کا آغاز روایتی حریف انگلینڈ کے خلاف واگنر ہاکی اسٹیڈیم، ایمسٹل وین میں کرے گی۔ یہ میچ آج رات پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجے شروع ہوگا۔
آٹھ سال بعد گرین شرٹس کی واپسی
یہ ٹورنامنٹ پاکستان کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ گرین شرٹس آٹھ سال کے طویل وقفے کے بعد عالمی ہاکی کپ میں واپس آ رہے ہیں۔ پاکستان 2023 کے ایڈیشن کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکا تھا، اور اب ٹیم آٹھ سال بعد اس عالمی شوپیس میں شرکت کر رہی ہے۔ پاکستان کی واپسی کا سفر آسان نہیں تھا۔ مصر کے شہر اسماعیلیہ میں ہونے والے کوالیفائر مقابلوں میں گرین شرٹس نے چین کے خلاف 5-4 سے دلچسپ فتح سے آغاز کیا، پھر ملائیشیا کو 5-3 اور آسٹریا کو 4-2 سے شکست دے کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔ جاپان کے خلاف سیمی فائنل میں پاکستان 3-1 سے پیچھے ہونے کے باوجود آخری آٹھ منٹوں میں تین گول کر کے میچ کا پانسہ پلٹنے میں کامیاب رہا۔ تاہم فائنل میں انگلینڈ نے پاکستان کو 4-1 سے شکست دے کر مصر میں ناقابلِ شکست مہم مکمل کی۔
پول ڈی: بھارت اور ویلز کے ساتھ مقابلہ
پاکستان کو پول ڈی میں انگلینڈ، بھارت اور ویلز کے ساتھ رکھا گیا ہے۔پاکستان ہاکی فیڈریشن نے 20 رکنی دستے کا اعلان کیا ہے، جو 15 سے 30 اگست تک بیلجیئم اور نیدرلینڈز میں کھیلے جانے والے اس ٹورنامنٹ میں حصہ لے گا۔ گرین شرٹس آج انگلینڈ کے بعد اگست کو ویلز کا سامنا کریں گے، جس کے بعد 19 اگست کو روایتی حریف بھارت سے ٹکراؤ ہوگا۔ ماہرین اور شائقین بھارت پاکستان مقابلے کو پول مرحلے کی سب سے بڑی کشش قرار دے رہے ہیں، کیونکہ دونوں ٹیمیں اگلے مرحلے میں جگہ بنانے کے لیے کوشاں ہوں گی۔
چار بار کے عالمی چیمپئن کی میراث
پاکستان ہاکی کی تاریخ میں سب سے کامیاب ٹیم شمار ہوتی ہے۔ چار بار کی عالمی چیمپئن اور تین بار کی اولمپک طلائی تمغہ جیتنے والی ٹیم آج بھی کھیل کے سب سے مشہور دستوں میں شمار ہوتی ہے، جس نے اپنے فن، انداز اور شاندار کھلاڑیوں کی کئی نسلوں کے ذریعے جدید کھیل کو تشکیل دیا۔ ٹیم نے 1971، 1978، 1982 اور 1994 میں عالمی کپ کا اعزاز اپنے نام کیا، جبکہ آسٹریلیا، نیدرلینڈز اور جرمنی نے تین، تین بار یہ ٹرافی جیتی ہے۔
ٹورنامنٹ کا باقاعدہ آغاز، بھارت اور ویلز کا افتتاحی میچ
ورلڈ کپ کا پہلا میچ آج پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر شروع ہوگا۔ ٹورنامنٹ کا آغاز بھارت اور ویلز کے میچ سے ہوگا، جو مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے اور پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر چار بجے واگنر ہاکی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔اسی روز پاکستان بھی ویلز کے خلاف اپنا میچ کھیلے گا، جبکہ فرانس اور ملائیشیا، اور جرمنی و بیلجیئم کے مابین بھی مقابلے شیڈول ہیں۔ واضح رہے کہ یہ عالمی کپ سے 30 اگست تک بیلجیئم کے شہر ویاورے اور نیدرلینڈز کے ایمسٹل وین میں مشترکہ طور پر منعقد ہو رہا ہے، اور یہ پہلا موقع ہے کہ مردوں کا یہ ایونٹ دو ممالک میں مشترکہ طور پر کروایا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر شائقین کا جوش و خروش
پاکستان ٹیم کی روانگی سے قبل ہی سوشل میڈیا پر ہاکی شائقین کا جوش دیدنی رہا۔ ٹیم کی نیدرلینڈز روانگی کے موقع پر شائقین نے ایکس (ٹوئٹر) پر نیک تمناؤں کا اظہار کیا، جن میں سے ایک مقبول پیغام میں لکھا گیا: “پاکستان ہاکی ٹیم کے بیلجیئم اور نیدرلینڈز روانہ ہونے پر نیک خواہشات، ہمیں فخر دلاؤ لڑکو”۔ اس کے علاوہ آفیشل کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ کے بیانات بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان ٹیم کے مینیجر محمد اویس قرنی نے میچ سے قبل کہا کہ کھلاڑی فٹ اور بے حد پرجوش ہیں، اور اگرچہ یہ ایک نوجوان دستہ ہے، امد شکیل بٹ اور کپتان ابوبکر کے علاوہ باقی تمام کھلاڑی اپنا پہلا عالمی کپ کھیلنے جا رہے ہیں۔
عالمی سطح پر بھی ٹورنامنٹ سے متعلق آن لائن گفتگو زوروں پر ہے، جہاں شائقین اور کھیلوں کے صحافی مختلف ٹیموں کے میچ شیڈول، اسکواڈز اور فیورٹس پر تبصرے شیئر کر رہے ہیں۔ برطانیہ میں چینل 4 پر انگلینڈ کے میچز کی مفت کوریج کے اعلان کے بعدانگلینڈ کے میچز کو سوشل میڈیا پر بھی خاصی پذیرائی مل رہی ہے، جبکہ تمام میچز کا لائیو اسٹریمنگ پاس ایف آئی ایچ واچ ہاکی پلیٹ فارم پر دستیاب ہے۔
تیاریوں کا جائزہ
میچ سے قبل پاکستان ٹیم نے نیدرلینڈز میں مختلف حالات سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے مشقی میچز کھیلے۔ ٹیم نے جنوبی افریقہ کے خلاف 1-3 سے شکست کھائی، جبکہ جاپان کے خلاف 2-1 سے کامیابی حاصل کی۔ پاکستان ٹیم اس وقت ورلڈ رینکنگ میں 12ویں نمبر پر موجود ہے، اور شائقین کو امید ہے کہ گرین شرٹس اپنی روایتی جارحانہ ہاکی سے آج کے میچ میں انگلینڈ کو سخت مقابلے میں مصروف رکھیں گے۔
آج شام پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجے کھیلا جانے والا یہ میچ نہ صرف پاکستان کی عالمی کپ مہم کا آغاز ہوگا بلکہ ملک بھر کے ہاکی شائقین کی نظریں اس معرکے پر جمی ہوں گی، جسے سوشل میڈیا پر بھی بھرپور کوریج مل رہی ہے
UrduLead UrduLead