جمعہ , اگست 14 2026

پاکستان کا 79 واں یومِ آزادی جوش و جذبے سے

صدر و وزیراعظم کا اتحاد اور کشمیریوں سے یکجہتی کا پیغام

پاکستان بھر میں آج 14 اگست کو ملک کا 79 واں یومِ آزادی قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ صدرِ مملکت نے ایوانِ صدر میں قومی پرچم لہرا کر جشنِ آزادی کی تقریبات کا باضابطہ آغاز کیا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سمیت اہم مہمانوں نے شرکت کی۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں آدھی رات کے فوراً بعد آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا، جبکہ کراچی اور لاہور سمیت ملک بھر کے شہروں میں 12 بجتے ہی جشن منانے والوں کی ریلیاں سڑکوں پر نکل آئیں۔

صدر اور وزیراعظم کا قوم کے نام پیغام

اپنے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قائدِاعظم محمد علی جناح نے ثابت کیا کہ مسلمان ہر لحاظ سے ایک الگ قوم ہیں اور انہوں نے ایک پرامن جمہوری و سیاسی جدوجہد کی قیادت کی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 14 اگست محض سیاسی آزادی کا جشن نہیں بلکہ قوم کو اتحاد اور خوداعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت کا پیغام ہے۔ انہوں نے یومِ آزادی کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کو سیاسی، اخلاقی اور سفارتی مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہیے۔

قائدِاعظم کے مزار پر تبدیلیٔ گارڈز کی پروقار تقریب

کراچی میں بانیِ پاکستان قائدِاعظم محمد علی جناح کے مزار پر تبدیلیٔ گارڈز کی روایتی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان نیول اکیڈمی کے کیڈٹس نے اعزازی گارڈز کے فرائض سنبھالے۔ ہر سال 14 اگست کو یہ ذمہ داری نیول اکیڈمی کے کیڈٹس کو دی جاتی ہے۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی، کمانڈنٹ پاکستان نیول اکیڈمی ریئر ایڈمرل محمد عمیر نے مزارِ قائد پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔

دارالحکومت میں دن بھر کی تقریبات

اسلام آباد میں یومِ آزادی کے سلسلے میں پریڈ گراؤنڈ، پاکستان مونومنٹ، لوک ورثہ اور ایف نائن پارک سمیت متعدد مقامات پر تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ پاک فضائیہ نے پریڈ گراؤنڈ اور ایکسپریس وے کے اوپر فلائی پاسٹ کیا، جبکہ آدھی رات کو مرکزِ حق یادگار کے قریب آتش بازی اور فلائی پاسٹ کا اہتمام کیا گیا۔ شام 5 بجے پرانے پریڈ گراؤنڈ پر سٹی پریڈ منعقد ہوئی، جبکہ لوک ورثہ اوپن ایئر تھیٹر میں ’’ملی نغموں کی شام — جشنِ آزادی‘‘ کے عنوان سے شام 6 سے 8 بجے تک قومی نغموں کا خصوصی پروگرام پیش کیا گیا۔ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اسلام آباد اور راولپنڈی میں 13 اور 14 اگست کو بھاری ٹریفک کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی۔

کراچی میں سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی جانب سے بھی آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا، جس میں وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی اور ڈاکٹر فاروق ستار سمیت جماعت کے دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ آزادی کی نعمت برصغیر کے مسلمانوں اور عوام کے لیے اللہ کا بڑا انعام ہے۔

سوشل میڈیا پر جشنِ آزادی کا جوش

سوشل میڈیا پر یومِ آزادی کے موقع پر صارفین کی جانب سے بڑے پیمانے پر مبارکبادی پیغامات، قومی پرچم کی تصاویر اور محبِ وطن مواد شیئر کیا گیا۔ گھروں اور گاڑیوں کو سبز و سفید رنگ سے سجانے، پرچم کشائی کی تقریبات اور خاندانی اجتماعات کی ویڈیوز و تصاویر صارفین کی ٹائم لائنز پر نمایاں رہیں۔ کئی صارفین نے قائدِاعظم کے اقتباسات اور تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے پیغامات شیئر کیے۔ دوسری جانب، بعض صارفین نے نشاندہی کی کہ عین یومِ آزادی کے موقع پر حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان بھی سامنے آیا، جس پر کچھ حلقوں نے حکومتی ٹائمنگ پر تنقید کی، جبکہ اکثریت نے اسے یومِ آزادی کے جوش سے الگ رکھتے ہوئے قومی دن کی خوشیوں پر توجہ مرکوز رکھی۔

تاریخی پس منظر

یاد رہے کہ پاکستان 14 اگست 1947 کو برطانوی راج سے آزاد ہو کر ایک خودمختار ریاست کے طور پر معرضِ وجود میں آیا تھا، جس کی بنیاد تحریکِ پاکستان کے تحت آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت میں رکھی گئی۔ اس سال ملک اپنی آزادی کی 79ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ ملک بھر میں سرکاری و نجی دفاتر، تعلیمی ادارے اور بازار عام تعطیل کے باعث بند ہیں، جبکہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلز پر دن بھر ملی نغمے اور خصوصی پروگرام نشر کیے جا رہے ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پاکستان کے بیرونی قرضوں میں کمی کا سلسلہ ٹوٹ گیا

صرف تین ماہ میں 1242 ارب روپے کا اضافہ، مجموعی قرضہ 59 ہزار 441 ارب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے