
صرف تین ماہ میں 1242 ارب روپے کا اضافہ، مجموعی قرضہ 59 ہزار 441 ارب تک جا پہنچا
پاکستان کے بیرونی قرضوں میں کمی کا سلسلہ ایک بار پھر رک گیا ہے اور ملک کے بیرونی قرضوں میں تیزی سے اضافہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق مارچ سے جون 2026ء تک، محض تین ماہ کے دوران، ملک کے بیرونی قرضوں میں 1242 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق اسی عرصے کے دوران حکومت کے مجموعی قرضوں میں 3112 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد حکومت کے مجموعی ملکی و غیر ملکی قرضے 59 ہزار 441 ارب روپے کی سطح تک پہنچ گئے۔ اسی دوران حکومت کے صرف ملکی قرضوں میں 1870 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بیرونی قرضے 22 ہزار 958 ارب سے بڑھ کر 24 ہزار 200 ارب روپے تک پہنچے
دستاویزات کے مطابق مارچ 2026ء تک پاکستان کا مجموعی بیرونی قرضہ 22 ہزار 958 ارب روپے تھا، جو جون 2026ء تک بڑھ کر 24 ہزار 200 ارب روپے تک جا پہنچا۔ اس سے قبل رواں سال کے پہلے تین ماہ میں بیرونی قرضوں میں 207 ارب روپے کی کمی کی گئی تھی، جبکہ جون 2025ء سے مارچ 2026ء تک کے عرصے میں بیرونی قرضوں میں مجموعی طور پر 458 ارب روپے تک کمی دیکھی گئی تھی۔ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ طویل مدتی بیرونی قرضوں میں مارچ سے جون 2026ء کے دوران نمایاں اضافہ ہوا: مارچ میں یہ 19 ہزار 720 ارب روپے تھے جو جون تک بڑھ کر 21 ہزار 768 ارب روپے ہوگئے۔ اس کے برعکس قلیل مدتی بیرونی قرضوں میں اسی عرصے کے دوران 506 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
وزارتِ خزانہ کا مؤقف: اضافہ زرِ مبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ کا نتیجہ
وزارتِ خزانہ اس سے قبل وضاحت دے چکی ہے کہ بیرونی قرضوں میں اضافے کا ایک بڑا حصہ آئی ایم ایف کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت آنے والی رقوم اور سعودی آئل فنڈ جیسی کموڈیٹی سہولتوں سے متعلق ہے، جن کے لیے فوری طور پر روپے میں ادائیگی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وزارت کے مطابق قرضوں میں ظاہری اضافے کا ایک اہم حصہ دراصل کرنسی کی شرحِ تبادلہ میں اتار چڑھاؤ کے باعث ہونے والی ویلیوایشن ایڈجسٹمنٹ ہے، نہ کہ خالص نیا قرضہ۔ حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ وہ قرض سے جی ڈی پی کے تناسب میں کمی، قرضوں کی قبل از وقت واپسی اور بیرونی کھاتوں کو مستحکم بنانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
آئی ایم ایف کی پیش گوئیوں کی تصدیق
یہ اضافہ عالمی مالیاتی فنڈ کی سابقہ پیش گوئیوں سے بھی مطابقت رکھتا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر تقریباً 126.7 ارب ڈالر اور 2026-27 میں مزید بڑھ کر 131.7 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ حالیہ اقتصادی سروے کے مطابق مارچ 2026ء کے آخر تک حکومتی بیرونی قرضہ 92.2 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا، جس میں سے 82.26 ارب ڈالر وفاقی حکومت پر واجب الادا ہیں جبکہ آئی ایم ایف کے واجب الادا قرضے 9.89 ارب ڈالر ہیں، جو مجموعی بیرونی قرضوں کا تقریباً 11 فیصد بنتا ہے۔ عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر کثیر الجہتی اداروں کے قرضے مجموعی بیرونی قرضوں کا سب سے بڑا حصہ یعنی 46 فیصد بنتے ہیں۔
ہر پاکستانی شہری پر قرض کا بوجھ مسلسل بڑھتا ہوا
وزارتِ خزانہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کردہ فسکل پالیسی اسٹیٹمنٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں فی کس قرضہ 3 لاکھ 33 ہزار 41 روپے تک پہنچ چکا تھا، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 13 فیصد زائد تھا۔ ماہرینِ معیشت کے مطابق قرضوں میں مسلسل اضافہ ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈالتا ہے اور سود کی مد میں ادائیگیوں کا بوجھ بھی بڑھاتا ہے، جو مجموعی مالیاتی خسارے پر براہِ راست اثرانداز ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
قرضوں میں اضافے کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین اور معاشی تجزیہ کاروں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ متعدد صارفین نے سوال اٹھایا کہ حالیہ ماہ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ بیرونی قرضوں میں نئے اضافے کی خبر عام آدمی کے لیے مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا رہی ہے۔ کچھ صارفین نے حکومتی دعووں کو یاد دلایا کہ رواں سال کے آغاز میں بیرونی قرضوں میں کمی کو معاشی بہتری کی علامت قرار دیا جا رہا تھا، جبکہ اب دوبارہ اضافے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ معاشی امور پر گفتگو کرنے والے صارفین نے حکومت سے قرضوں کے انتظام اور شفافیت سے متعلق مزید وضاحت طلب کی، جبکہ کچھ نے وزارتِ خزانہ کے اس مؤقف کی جانب توجہ دلائی کہ اضافے کا ایک حصہ کرنسی ویلیوایشن سے متعلق ہے نہ کہ نئے قرضے سے۔
پس منظر
خیال رہے کہ پاکستان کا رواں مالی سال کے دوران قرضوں کی مد میں بھاری ادائیگیوں کا شیڈول بھی موجود ہے، اور ملک آئی ایم ایف کے ساتھ جاری توسیعی فنڈ سہولت (EFF) پروگرام کے تحت مالیاتی نظم و ضبط کا پابند ہے۔ حکومت کا کہنا رہا ہے کہ قرضوں کی واپسی کی اوسط مدت میں بہتری آئی ہے، جس سے ری فنانسنگ کے خطرات میں کمی واقع ہوئی ہے، تاہم مجموعی قرضوں کے حجم میں تسلسل سے اضافہ ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج تصور کیا جا رہا ہے
UrduLead UrduLead