جمعہ , اگست 14 2026

پیٹرول 45 پیسے، ڈیزل 1 روپے 16 پیسے مہنگا

یومِ آزادی پر عوام کو مہنگائی کا ایک اور جھٹکا

یومِ آزادی کے موقع پر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی جانب سے 13 اگست 2026 کو جاری پریس ریلیز کے مطابق، وفاقی حکومت کے نظرثانی شدہ پیٹرولیم پرائسنگ میکانزم کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے 14 اگست سے نافذ العمل نئی ایکس ڈپو قیمتوں کا اعلان کیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 1 روپے 16 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 382.79 روپے سے بڑھ کر 383.95 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ اسی طرح موٹر اسپرٹ یعنی پیٹرول کی قیمت میں 45 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا اور نئی قیمت 324.98 روپے سے بڑھ کر 325.43 روپے فی لیٹر مقرر کر دی گئی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوا۔

روزانہ کی بنیاد پر نظرثانی کا نظام

یاد رہے کہ حکومت نے 17 جولائی 2026 کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے روزانہ نظرثانی کا نیا نظام متعارف کرایا تھا۔ اس نظام کے تحت قیمتیں عالمی منڈی کی سات روزہ اوسط قیمت کی بنیاد پر روزانہ مقرر کی جاتی ہیں، تاہم ہفتہ اور اتوار کو کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی۔ یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر اٹھایا گیا۔ خبروں کے مطابق ڈیزل کی قیمت رواں سال فروری میں امریکہ ایران تنازع شروع ہونے کے بعد 281 روپے سے بڑھ کر اپریل میں 520.35 روپے فی لیٹر کی بلند ترین سطح تک جا پہنچی تھی، جس کے بعد اس میں بتدریج کمی دیکھی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت پیٹرول پر 114 روپے جبکہ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹی وصول کر رہی ہے۔ ڈیزل پر لیوی میں بھی ایک روپے کا اضافہ کر کے اسے 77.28 روپے فی لیٹر کر دیا گیا، جبکہ پیٹرول اور مٹی کے تیل پر لیوی بالترتیب 80 روپے اور 20.36 روپے فی لیٹر برقرار رکھی گئی۔

پیٹرول ڈیلرز کا احتجاج، ہڑتال کا اعلان

قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی پیٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کے درمیان بدھ کو تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات بےنتیجہ ختم ہو گئے۔ ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ حکومت قیمتوں کے روزانہ تعین کے نظام میں تبدیلی پر آمادہ نہیں، جس کے باعث انہوں نے 15 اگست (ہفتے) کو ملک بھر میں پٹرول پمپس بند رکھنے کی دھمکی برقرار رکھی ہے۔ حتمی حکمتِ عملی کا فیصلہ ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں کیا جانا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

قیمتوں میں اضافے کی خبر یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آ گئی۔ صارفین نے نشاندہی کی کہ جس دن ملک بھر میں پرچم کشائی اور جشنِ آزادی کی تقریبات ہو رہی تھیں، اسی روز عوام کو مہنگائی کا نیا جھٹکا دیا گیا، جس پر کئی صارفین نے حکومتی ٹائمنگ پر تنقید کی۔ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس سیکٹر سے وابستہ صارفین نے خاص طور پر ڈیزل کی قیمت میں مسلسل اضافے پر تشویش کا اظہار کیا، کیونکہ اس شعبے کا انحصار بڑی حد تک ڈیزل پر ہے اور اس کے اثرات کرایوں اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر پڑنے کا امکان ہے۔

معاشی پس منظر

اقتصادی جائزہ 2024-25 کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پاکستان کی درآمدات میں سب سے بڑی مد ہیں، جس کی وجہ سے ملکی معیشت عالمی خام تیل کی قیمتوں میں تبدیلی سے براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔ ملکی ریفائنریاں طلب کا صرف ایک حصہ پورا کرتی ہیں جبکہ باقی ضرورت درآمدی خام تیل اور تیار مصنوعات سے پوری کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی قیمتوں میں ہر اضافہ درآمدی بل بڑھاتا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈالتا ہے اور مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے

About Aftab Ahmed

Check Also

پاکستان کے بیرونی قرضوں میں کمی کا سلسلہ ٹوٹ گیا

صرف تین ماہ میں 1242 ارب روپے کا اضافہ، مجموعی قرضہ 59 ہزار 441 ارب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے