منگل , جون 30 2026

مالی سال 2025-26 معاشی بحالی کا سال

شرح نمو 3.7 فیصد، مہنگائی سنگل ڈیجٹ اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں تبدیل

پاکستان نے مالی سال 2025-26 کا اختتام گزشتہ چار برس کی بہترین معاشی کارکردگی کے ساتھ کیا ہے۔ ملکی معیشت کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، اوسط مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر آگئی جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ بھی سرپلس میں تبدیل ہوگیا۔ یہ بات وزارت خزانہ کے اکنامک ایڈوائزر ونگ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ اکنامک اپڈیٹ اینڈ آؤٹ لک برائے جون 2026 میں بتائی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حقیقی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 3.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد ملکی معیشت کا حجم بڑھ کر 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ زرعی، صنعتی اور خدمات کے شعبوں میں مجموعی طور پر مثبت کارکردگی دیکھنے میں آئی، حالانکہ مالی سال کے آغاز میں سیلاب اور عالمی منڈیوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جیسے چیلنجز بھی موجود تھے۔

زرعی شعبے نے 2.9 فیصد نمو حاصل کی جبکہ حکومت نے معاشی استحکام برقرار رکھتے ہوئے اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی پالیسی جاری رکھی۔

مہنگائی میں نمایاں کمی

وزارت خزانہ کے مطابق جولائی تا مئی مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) مہنگائی 6.7 فیصد رہی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم مئی 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 11.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث حکومت نے عوام کو ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کمی کی۔

مالیاتی اشاریوں میں بہتری

رپورٹ کے مطابق جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران مالیاتی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کا 1.1 فیصد رہ گیا، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 3.2 فیصد تھا۔

اسی دوران حکومت نے جی ڈی پی کے 3.5 فیصد کے مساوی بنیادی سرپلس (Primary Surplus) حاصل کیا۔ وفاقی حکومت کی خالص آمدن میں 5.8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس وصولیاں 9.7 فیصد بڑھ کر 11 ہزار 228.8 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔ دوسری جانب حکومتی اخراجات میں 9.9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

بیرونی شعبہ مستحکم

رپورٹ کے مطابق جولائی تا مئی مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 255 ملین ڈالر سرپلس میں رہا۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر 9.2 فیصد اضافے کے ساتھ 38.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ صرف مئی 2026 میں ریکارڈ 4.3 ارب ڈالر موصول ہوئے۔ 19 جون 2026 تک زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

صنعت اور اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں بہتری

بڑی صنعتوں (LSM) کی پیداوار جولائی تا اپریل کے دوران 6.4 فیصد بڑھی، جبکہ گزشتہ مالی سال اسی عرصے میں اس شعبے میں 1.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ آٹوموبائل، خوراک، گارمنٹس اور پیٹرولیم مصنوعات کی صنعتوں نے اس بہتری میں اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کے ایس ای-100 انڈیکس مئی کے دوران 10 ہزار سے زائد پوائنٹس اضافے کے بعد تقریباً ایک لاکھ 74 ہزار پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا، جس سے پاکستان ایشیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی اسٹاک مارکیٹوں میں شامل ہوگیا۔

مالی سال 2026-27 کے لیے مثبت توقعات

وزارت خزانہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے بھی مثبت معاشی منظرنامے کی پیش گوئی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق زرعی شعبے کی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ زرعی قرضوں کی فراہمی 18.9 فیصد اضافے کے ساتھ 2 ہزار 457.9 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام پر پیش رفت، پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، یورو بانڈ اور پانڈا بانڈ کے کامیاب اجرا سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی بجٹ 2026-27 میں برآمدات کے فروغ، ٹیکس ریلیف، سماجی تحفظ اور مالیاتی نظم و ضبط کو ترجیح دی گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے جون میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا، جبکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی اور امریکہ۔ایران جنگ بندی کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی کو آئندہ مالی سال کے لیے مثبت عوامل قرار دیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ نے خبردار کیا کہ عالمی سطح پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور تجارتی غیر یقینی صورتحال جیسے خطرات بدستور موجود ہیں، تاہم محتاط مالیاتی پالیسی، اصلاحات اور پیداواری شعبوں کی معاونت کے باعث پاکستان کی معیشت نئے مالی سال میں نسبتاً مضبوط بنیادوں پر داخل ہو رہی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ 30 جون سے داخل

2 جولائی سے بارشوں کا امکان محکمہ موسمیات نے ملک کے بالائی علاقوں میں 30 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے