بدھ , اگست 19 2026

نئی آٹو پالیسی: تحفظ نہیں، فیصلہ صارفین کے حق کا

پاکستان کی نئی آٹو پالیسی پر جاری کشمکش میں اصل سوال یہ نہیں کہ اسمبلرز کو مزید کتنا تحفظ دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ عشروں سے مراعات پر پلنے والی صنعت کب تک صارفین اور قومی خزانے کی قیمت پر تحفظ کی متقاضی رہے گی۔ سابقہ پالیسی 30 جون کو ختم ہو چکی ہے اور صنعتوں کی وزارت و تجارت کی وزارت کے درمیان اختلاف کے باعث معاملہ اب وزیراعظم کی میز تک جا پہنچا ہے۔ تاہم شواہد اور تجربہ دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اس بار فیصلہ اسمبلرز کے تحفظ کے بجائے صارفین کے حق میں ہونا چاہیے۔

چار دہائیوں کا تحفظ، مسابقت پھر بھی ندارد

پاکستان کی آٹو صنعت کو تقریباً چالیس سال سے تحفظاتی پالیسیوں کے سائے میں پالا گیا، مگر نتیجہ کیا نکلا؟ گزشتہ تین آٹو پالیسیوں میں سالانہ 5 لاکھ گاڑیوں کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جس کا صنعت بمشکل دو تہائی حصہ ہی حاصل کر پائی۔ اگر چار دہائیوں کا تحفظ بھی مسابقت اور پیداواری استعداد پیدا نہ کر سکا تو یہ سوچنا ہی خام خیالی ہے کہ مزید چند برسوں کی رعایت کوئی معجزہ برپا کر دے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ تحفظ نے مسابقت کو جنم دینے کے بجائے ایک محفوظ، سست اور غیر جوابدہ مارکیٹ کو پروان چڑھایا، جس میں صارف کو ہمیشہ مہنگی اور فرسودہ ٹیکنالوجی کی حامل گاڑی تھمائی گئی۔

صارف کو کیا ملا؟ زیادہ قیمت، کم معیار

سی بی یو (مکمل تیار شدہ) گاڑیوں پر ڈیوٹی میں حالیہ کمی — جو مختلف انجن سائز کے لیے 50 سے 60 فیصد سے کم کر کے 30 سے 40 فیصد کی گئی — دراصل وہی قدم ہے جس کی ملک کے کروڑوں صارفین کو برسوں سے ضرورت تھی۔ جب درآمدی گاڑیاں مقامی مارکیٹ میں مسابقتی قیمت پر دستیاب ہوں گی تو مقامی اسمبلرز کو بہتر معیار، جدید فیچرز اور مناسب قیمت پر گاڑیاں پیش کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا — یہی وہ صحت مند دباؤ ہے جو تحفظ پرستی نے چار دہائیوں تک صارف سے چھینے رکھا۔ سی کے ڈی ڈیوٹی ڈھانچے میں تبدیلی نہ کرنے پر اسمبلرز کی تشویش دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کھلے مقابلے سے خوفزدہ ہیں، نہ کہ یہ کہ نئی پالیسی صنعت کے لیے نقصان دہ ہے۔

ملازمتوں کا مبالغہ آمیز دعویٰ

آٹو لابیز کا یہ دعویٰ کہ صنعت 18 سے 25 لاکھ ملازمتیں پیدا کرتی ہے، بغیر کسی معتبر اعداد و شمار کے کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس متعلقہ کمیٹی کی تفصیلی جانچ کے بعد سامنے آنے والا حقیقت پسندانہ تخمینہ محض تین لاکھ ملازمتوں کے قریب ہے — یعنی مجموعی قومی معیشت کے تناظر میں ایک نسبتاً معمولی تعداد۔ جب صنعت خود مجموعی قومی پیداوار کے ایک فیصد سے بھی کم کی نمائندگی کرتی ہو، تو محض چند لاکھ ملازمتوں کے تحفظ کے نام پر کروڑوں صارفین کو مہنگی اور غیر معیاری گاڑیاں خریدنے پر مجبور رکھنا کسی طور معاشی دانشمندی نہیں۔

این ای ویز کے لیے سہولت، لیکن اصل فائدہ صارف کا ہونا چاہیے

برقی گاڑیوں (ای ویز) اور ری-ایکسٹینڈڈ رینج الیکٹرک وہیکلز کو کم ڈیوٹی اور جی ایس ٹی کی مراعات میں ایک سال کی توسیع خوش آئند ہے، اور اسی نوعیت کی سہولت پی ایچ ای ویز اور ایچ ای ویز کو بھی حاصل ہونی چاہیے تاکہ صارف کے پاس ماحول دوست اور کفایتی متبادل کی وسیع تر رینج دستیاب ہو۔ تاہم اصل مقصد صرف چند برانڈز کو نئی مراعات دینا نہیں بلکہ مجموعی مارکیٹ میں مسابقت بڑھانا ہونا چاہیے تاکہ قیمتیں نیچے آئیں اور صارف کو حقیقی انتخاب ملے۔

سرمایہ کاری کا تحفظ، ٹیکس دہندگان کی قیمت پر نہیں

یہ دلیل کہ گزشتہ دس برسوں میں نئے اداروں نے 1 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی ہے، اس بات کا جواز نہیں بن سکتی کہ یہ سرمایہ کاری ہمیشہ ٹیکس دہندگان کے کندھوں پر برقرار رکھی جائے۔ کاروباری خطرہ مول لینا سرمایہ کاروں کی اپنی ذمہ داری ہے، نہ کہ عوام کا بوجھ۔ اگر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے ذریعے سی کے ڈی ڈیوٹی میں کمی کے اثرات کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش کی گئی، تو یہ دراصل پرانی تحفظاتی پالیسی کو نئے لبادے میں دوبارہ نافذ کرنے کے مترادف ہوگا — جو صارف دشمن اور مسابقت مخالف قدم تصور کیا جائے گا۔

آئی ایم ایف کا نقطۂ نظر بھی صارف کے حق میں

آئی ایم ایف کا آٹوموبائل اور بالخصوص برقی گاڑیوں کے شعبے میں کسی بھی نوعیت کے تحفظ کی مخالفت کرنا کوئی اتفاق نہیں، بلکہ عالمی مالیاتی تجربے کی روشنی میں یہ نقطۂ نظر واضح کرتا ہے کہ طویل المدتی تحفظ صرف چند بڑے کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچاتا ہے جبکہ اس کی قیمت پوری قوم چکاتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وزیراعظم کی سطح پر حتمی فیصلہ کرتے وقت صنعتی لابیز کے دباؤ کے بجائے کروڑوں صارفین اور قومی خزانے کے مفاد کو ترجیح دے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

راولپنڈی، اسلام آباد میں موسلادھار بارش

نالہ لئی میں طغیانی، کٹاریاں پر پانی کی سطح 22 فٹ سے تجاوز، خطرے کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے