بدھ , اگست 19 2026

فکسڈ ٹیکس اسکیم کا باضابطہ اجراء

وزیر خزانہ کی “ہراساں نہ کرنے” کی یقین دہانی

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے چھوٹے دکانداروں کے لیے خصوصی ٹیکس اسکیم کا باضابطہ اجراء کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تاجروں کو کسی بھی صورت ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم تاجروں کی برسوں پرانی خواہش کی تکمیل ہے کہ ٹیکس نظام کو آسان اور سادہ بنایا جائے۔ اس موقع پر انجمن تاجراں کے نمائندے بھی پریس کانفرنس میں موجود تھے۔

“تاجروں کی مشاورت سے آگے بڑھ رہے ہیں”

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت تاجروں کی مشاورت سے مل کر آگے بڑھ رہی ہے اور اس نوعیت کے کئی مواقع پہلے بھی استعمال کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے اس اسکیم کی کامیابی کے حوالے سے پُرامید ہونے کا اظہار کیا اور بتایا کہ ایف بی آر اور پرال کی مسلسل کوشش رہی ہے کہ چھوٹے دکانداروں کے لیے ٹیکس کے عمل کو آسان بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر معاشرے کا کوئی بھی طبقہ ٹیکس نظام کا حصہ نہ بنے تو مجموعی نظام مؤثر طریقے سے نہیں چل سکتا۔

موبائل ایپ سے ریٹرن، پوائنٹ آف سیل سے استثنیٰ

وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ چھوٹے دکاندار اب موبائل فون ایپلی کیشن کے ذریعے ہی ٹیکس ریٹرن فائل کر سکیں گے اور ٹیکس کی ادائیگی بھی موبائل فون کے ذریعے ممکن ہوگی۔ اسکیم کے تحت اہل دکانداروں کو پوائنٹ آف سیلز مشین نصب کرنے کی شرط سے استثنیٰ حاصل ہوگا اور انہیں کیو آر کوڈ پر مشتمل “گرین پلیٹ” جاری کی جائے گی، جسے دکان پر آویزاں کرنا ضروری ہوگا۔ ان کے مطابق جس دکان پر گرین پلیٹ آویزاں ہوگی، وہاں ایف بی آر کا کوئی افسر معمول کی چھان بین کے لیے داخل نہیں ہوگا۔

کن تاجروں کے لیے اسکیم، کتنا ٹیکس دینا ہوگا؟

ایف بی آر کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ خصوصی طریقہ کار ٹیکس سال 2026 کے لیے نافذ ہے اور اس سے صرف وہی انفرادی دکاندار مستفید ہو سکیں گے جن کا سالانہ کاروبار 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہو اور گزشتہ تین سالوں میں سے کسی بھی سال میں یہ حد تجاوز نہ کی گئی ہو۔ اسکیم کے تحت دکاندار کو اپنے مجموعی کاروبار پر ایک فیصد انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا، تاہم ریٹرن فائل کرتے وقت کم از کم 25 ہزار روپے نقد جمع کرانا لازمی ہوگا۔ پہلے سے ادا شدہ ودہولڈنگ ٹیکس کو نئے نظام میں ایڈجسٹ کرانے کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔ صرف ایک دکان کے مالک اس اسکیم کے اہل ہوں گے جبکہ متعدد دکانوں کے مالکان، بڑے ریٹیلرز، جیولرز اور بعض پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والے اس سے مستثنیٰ رہیں گے۔ اسکیم رضاکارانہ بنیادوں پر ہے اور دکاندار چاہیں تو موجودہ ٹیکس نظام میں بھی رہ سکتے ہیں۔ مقررہ مدت میں ریٹرن فائل نہ کرنے یا اسکیم کا انتخاب نہ کرنے پر 10 ہزار سے 50 ہزار روپے تک جرمانے کا بھی امکان ہے۔

چالیس لاکھ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا ہدف

حکام کے مطابق اس اسکیم کا مقصد ملک بھر کے تقریباً 40 لاکھ چھوٹے تاجروں کو باضابطہ قومی معیشت اور ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ہے۔ وزیر خزانہ اورنگزیب اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ حکومت ٹیکس کی شرح بڑھانے کے بجائے اسے کم کر کے تاجروں پر بوجھ کم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

تاجر تنظیموں کی جانب سے قانونی خدشات بھی سامنے

اسکیم کے اعلان کے بعد ہر طبقے کا ردعمل یکساں مثبت نہیں رہا۔ پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن (پی ٹی بی اے) نے وزیر خزانہ کو باضابطہ خط لکھ کر فکسڈ ٹیکس اسکیم سے متعلق قانونی اور طریقہ کار کے خدشات اٹھائے تھے، جن میں رجسٹریشن کے عمل اور اسکیم کے نفاذ کے حوالے سے وضاحت طلب کی گئی۔ سوشل میڈیا پر بھی تاجروں اور صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا: کئی صارفین نے اسکیم کو خوش آئند اور آسان قرار دیا، جبکہ کچھ تاجروں نے سوال اٹھایا کہ کیا “ہراساں نہ کرنے” کی یقین دہانی عملی طور پر نچلی سطح پر بھی برقرار رہ سکے گی، کیونکہ ماضی میں اسی نوعیت کے وعدوں کے باوجود فیلڈ افسران کی جانب سے شکایات موصول ہوتی رہی ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

راولپنڈی، اسلام آباد میں موسلادھار بارش

نالہ لئی میں طغیانی، کٹاریاں پر پانی کی سطح 22 فٹ سے تجاوز، خطرے کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے