
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے آن لائن فراڈ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران ایک اور بڑے اسکینڈل کا انکشاف کر دیا ہے، جس میں ایف آئی اے کے امیگریشن ونگ، امیگریشن و پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ اور اسلام آباد پولیس کے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ (ایس پی یو) کے اہلکار مبینہ طور پر رشوت کے عوض غیر ملکیوں کو امیگریشن کلیئرنس دینے اور ان کی نقل و حرکت میں سہولت کاری میں ملوث پائے گئے ہیں۔
406 غیر ملکیوں کی گرفتاری، تحقیقات کے دوران انکشاف
یہ پیش رفت ایف آئی اے کے انسدادِ انسانی اسمگلنگ سیل اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے رواں ہفتے گرفتار کیے گئے 406 غیر ملکیوں — جن میں 46 خواتین بھی شامل ہیں — کے خلاف کال سینٹر اور ڈیجیٹل اسکینڈلز، ویزا خلاف ورزیوں اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق تحقیقات کے دوران سامنے آئی۔ ابتدا میں تمام غیر ملکیوں کو گلبرگ گرینز کی ایک کثیر المنزلہ عمارت میں رکھا گیا جسے سب جیل قرار دیا گیا تھا، بعد ازاں ان میں سے 231 افراد کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل اور ضلعی جیل اٹک منتقل کر دیا گیا۔
چینی شہری “جیک/جیسن” کا انکشاف
ذرائع کے مطابق یہ مبینہ نیٹ ورک اُس وقت بے نقاب ہوا جب “جیک” یا “جیسن” کے نام سے معروف ایک چینی شہری نے تفتیش کے دوران امیگریشن، پاسپورٹ اور ایس پی یو کے اہلکاروں پر مشتمل ایک منظم گٹھ جوڑ کا انکشاف کیا، جو مبینہ طور پر غیر قانونی مالی فائدے کے بدلے غیر ملکیوں کو امیگریشن کلیئرنس اور نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرتا تھا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون سید شہزاد ندیم بخاری نے تصدیق کی کہ پاسپورٹ آفس اور ایس پی یو اسلام آباد پولیس کے دو اہلکار گرفتار کیے جا چکے ہیں جبکہ سہولت کار کے طور پر کام کرنے والے چینی شہری کو بھی نامزد کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے میں این سی سی آئی اے کے کسی اہلکار کے ممکنہ کردار کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔
80 ہزار روپے فی کس رشوت، 2 کروڑ نقدی برآمد
15 اگست کو ایف آئی اے کے انسدادِ بدعنوانی سیل میں درج ایف آئی آر کے مطابق، چینی سہولت کار نے انکشاف کیا کہ پاسپورٹ آفس اور ایس پی یو کے اہلکار فی کس تقریباً 80 ہزار روپے کے عوض غیر ملکی مسافروں کو امیگریشن کلیئرنس فراہم کرتے تھے۔ ملزم کے موبائل فون سے واٹس ایپ گفتگو، چیٹس اور ادائیگیوں کی رسیدیں بھی برآمد ہوئیں، جبکہ یہ بھی انکشاف ہوا کہ غیر ملکی باقاعدگی سے ماہانہ بنیادوں پر “پروٹیکشن منی” کے نام پر این سی سی آئی اے اسلام آباد کو رقم ادا کر رہے تھے۔
انکشاف کے بعد انسدادِ بدعنوانی سیل کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمر ارسلان، ایس ایچ او انسپکٹر راجہ فہیم اور دیگر اہلکاروں پر مشتمل چھاپہ مار ٹیم نے پاسپورٹ آفس کے ملزم اہلکار کو اس کی گھوڑی ٹاؤن رہائش گاہ سے گرفتار کیا۔ ٹیم کے مطابق اس کی گاڑی کی ڈگی سے سوٹ کیس میں 2 کروڑ روپے نقدی بھی برآمد کی گئی، جو تاحال ساتھیوں میں تقسیم نہیں کی گئی تھی۔ بعد ازاں ایس پی یو کا اہلکار بھی اسلام آباد سے گرفتار کر لیا گیا۔
پس منظر: 284 غیر ملکیوں کی ملک بدری
اس سے قبل وزارتِ داخلہ آن لائن فراڈ میں ملوث 284 غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کر کے انہیں 15 روزہ ون ٹائم ایگزٹ پرمٹ جاری کر چکی ہے۔ گرفتار افراد میں اکثریت ویتنام، انڈونیشیا اور چین کے شہریوں کی تھی جو جعلی شناخت بنا کر سرمایہ کاری کے نام پر شہریوں کو لوٹنے میں ملوث پائے گئے۔ روانگی کے بعد ان کے نام بلیک لسٹ اور فارنرز کنٹرول لسٹ میں شامل کیے جائیں گے۔
گلبرگ گرینز میں کارروائی، اسپارکو پلازہ سے گرفتاریاں
ذرائع کے مطابق یہ گرفتاریاں ایف آئی اے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی مشترکہ کارروائی کے دوران اسلام آباد کے علاقے گلبرگ گرینز میں واقع اسپارکو پلازہ سے عمل میں لائی گئیں۔ گرفتار افراد میں اکثریت ویتنام، انڈونیشیا اور چین کے شہریوں کی بتائی جاتی ہے جبکہ کچھ ملزمان دیگر ممالک سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ حکام کے مطابق بیشتر ملزمان سیاحتی یا وزٹ ویزوں پر پاکستان آئے تھے اور ایک رجسٹرڈ آئی ٹی کاروبار کی آڑ میں غیر قانونی کال سینٹر چلا رہے تھے، جو ویزا شرائط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
جعلی شناخت، جھانسے میں لے کر سرمایہ کاری فراڈ
ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق ملزمان مختلف موبائل ایپلی کیشنز اور آن لائن پلیٹ فارمز پر لڑکیوں کی جعلی شناخت بنا کر پاکستانی شہریوں سے رابطہ کرتے، اعتماد حاصل کرنے کے بعد انہیں پرکشش منافع کے وعدوں پر مختلف کاروباری اور سرمایہ کاری اسکیموں میں پیسے لگانے پر آمادہ کرتے اور بعد ازاں رقم ہتھیا لیتے تھے۔ عثمان انور کے مطابق اس منظم آن لائن فراڈ نیٹ ورک سے متعدد پاکستانی شہریوں کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔ کچھ رپورٹس کے مطابق ملزمان سیکسٹورشن ریکٹ میں بھی ملوث پائے گئے، جہاں خواتین کے روپ میں رابطہ کر کے شہریوں کو بلیک میل کیا جاتا تھا۔
مقامی سہولت کار اور سرکاری اہلکاروں کے کردار کی تحقیقات
ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران انتہائی تشویشناک حقائق سامنے آ رہے ہیں اور گرفتار غیر ملکیوں کے مقامی سہولت کاروں اور ہینڈلرز کا بھی سراغ مل گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر ملکی ملزمان کے ساتھ ساتھ سہولت کاروں اور ہینڈلرز کے خلاف بھی تحقیقات جاری رہیں گی اور جرم میں معاونت کرنے والے کسی بھی فرد کے خلاف عہدے سے قطع نظر کارروائی ہوگی۔ ذرائع کے مطابق بعض سرکاری اہلکاروں کی ممکنہ معاونت کے پہلو کی بھی چھان بین جاری ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل کیے بغیر کسی ادارے یا فرد کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جائے گا۔
قانونی کارروائی مکمل، اڈیالہ جیل منتقلی
رپورٹس کے مطابق یہ کیس ایف آئی اے کے انسدادِ انسانی اسمگلنگ سرکل اسلام آباد میں درج مقدمہ نمبر 581/2026 سے متعلق ہے، جس پر وزارتِ داخلہ نے 14 اگست 2026 کو باضابطہ خط جاری کیا۔ ڈی جی ایف آئی اے کی تشکیل کردہ خصوصی ٹیموں نے سفری اور قانونی کارروائی مکمل کر لی ہے، جبکہ بعض ملزمان کو ملک بدری کے انتظامات کے تحت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل بھی منتقل کیا جا چکا ہے۔ اسی سلسلے میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے ایک پلازے کو عارضی سب جیل قرار دینے کا نوٹیفکیشن بھی واپس لے لیا گیا۔
بلیک لسٹ، مستقبل میں دوبارہ ویزا نہیں ملے گا
ذرائع کے مطابق روانگی کے بعد تمام ملک بدر کیے جانے والے غیر ملکیوں کے نام بلیک لسٹ اور فارنرز کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیے جائیں گے، جس کے بعد انہیں مستقبل میں دوبارہ پاکستانی ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ اسی نوعیت کی ایک اور کارروائی میں ایف آئی اے نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزام میں گوجرانوالہ، گجرات اور سیالکوٹ سے مزید 17 افراد کو بھی گرفتار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے کریک ڈاؤن کا خیرمقدم کیا اور مطالبہ کیا کہ ایسے غیر ملکی نیٹ ورکس کے مقامی سہولت کاروں کے خلاف بھی سخت اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے، جبکہ کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ اتنے بڑے پیمانے پر غیر قانونی کال سینٹر اور فراڈ نیٹ ورک طویل عرصے تک کیسے فعال رہا
UrduLead UrduLead