
نالہ لئی میں طغیانی، کٹاریاں پر پانی کی سطح 22 فٹ سے تجاوز، خطرے کے سائرن بج گئے
جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں وقفے وقفے سے جاری موسلادھار بارش نے ایک بار پھر نشیبی علاقوں کو زیر آب لا دیا اور نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی۔ انتظامیہ نے کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 22 فٹ سے تجاوز کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے نالے کے اطراف آبادی کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی، جبکہ خطرے کے سائرن بھی بجا دیے گئے۔
نشیبی علاقے زیر آب، ریسکیو اور واسا میدان میں
واسا کی ٹیمیں اور بھاری مشینری نالہ لئی اور گردونواح کے نشیبی علاقوں میں تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ نکاسیِ آب کا عمل تیز کیا جا سکے۔ ریسکیو 1122 کے اہلکار بھی کٹاریاں، گوالمنڈی اور دیگر حساس مقامات پر مسلسل موجود ہیں۔ ماضی کی طرح اس بار بھی پیرودھائی، ڈھوک الٰہی بخش، صادق آباد اور ملحقہ محلوں میں بارش اور نالے کا پانی گھروں میں داخل ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ مری روڈ اور راول روڈ سمیت متعدد اہم شاہراہوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی۔
سب سے زیادہ بارش سیدپور میں، سوشل میڈیا پر مقامی رین ٹریکرز کے اعداد و شمار
محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں سب سے زیادہ بارش سیدپور میں 66 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ موسمی صورتحال پر نظر رکھنے والے مقامی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جو معمول کے مطابق مختلف علاقوں سے حقیقی وقت میں بارش کے اعداد و شمار جمع کرتے ہیں، نے بھی جڑواں شہروں کے متعدد پوائنٹس سے مختلف مقدار میں بارش ریکارڈ ہونے کی تصدیق کی ہے — جن میں شکرپڑیاں، نیو کٹاریاں، فراش ٹاؤن اور سیٹلائٹ ٹاؤن جیسے علاقے شامل ہیں، جہاں حالیہ ہفتوں میں بھی بھاری بارشیں ریکارڈ ہو چکی ہیں۔ صارفین کی جانب سے سیلابی صورتحال کی ویڈیوز اور تصاویر بھی مسلسل شیئر کی جا رہی ہیں جن میں نالہ لئی کے بپھرے ہوئے پانی اور نشیبی محلوں میں گھروں کے اندر داخل پانی کو دکھایا گیا ہے۔
نارووال، منڈی بہاءالدین میں بھی بارش کا سلسلہ
نارووال میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہنے سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا، جبکہ ضلع میں نالہ بسنتر، نالہ اِیک اور نالہ پلکھو میں پہلے ہی نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ منڈی بہاءالدین میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات: جمعے تک الرٹ برقرار
محکمہ موسمیات نے ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جمعے تک جاری رہنے کا الرٹ جاری کر رکھا ہے۔ محکمے کے مطابق اسلام آباد، بالائی پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں مزید بارش کا امکان ہے۔ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع کے لیے علیحدہ سے 21 اگست تک تیز بارشوں کا انتباہ بھی جاری کیا جا چکا ہے۔
دریاؤں میں صورتحال، فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کی رپورٹ
فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ، تونسہ اور گڈو بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب کی کیفیت ہے، تاہم ملک کے باقی دریاؤں میں صورتحال بدستور معمول کے مطابق ہے۔ واضح رہے کہ رواں مون سون اسپیل کے دوران تربیلا ڈیم مکمل جبکہ منگلا ڈیم تقریباً ستر فیصد تک بھر چکا ہے، جس کے باعث متعلقہ حکام کو دریاؤں کی نگرانی مزید سخت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری طور پر نالوں، ندی نالوں اور نشیبی علاقوں کا رخ نہ کریں اور محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ الرٹس پر عمل کریں۔
UrduLead UrduLead