بدھ , اگست 19 2026

پنجاب و کے پی کے کئی شہروں میں شہری سیلاب کا خطرہ

پاکستان میں مون سون بارشوں کا تازہ سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے، اور محکمہ موسمیات (PMD) نے 18 اگست کی رات سے 20 اگست تک ملک کے بالائی و وسطی علاقوں میں طوفانی بارشوں کے باعث شہری سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا انتباہ جاری کر دیا ہے۔

کن علاقوں کو خطرہ لاحق ہے؟

محکمہ موسمیات کے مطابق تیز بارشیں اسلام آباد/راولپنڈی، مردان، سوابی، پشاور، نوشہرہ، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور لاہور کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر، مری، گلیات اور اسلام آباد/راولپنڈی کے مقامی نالوں میں فلیش فلڈنگ کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمے نے خبردار کیا ہے کہ خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا امکان بھی موجود ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کرنٹس ملک کے بالائی حصوں میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ ایک مغربی ہوائی نظام (ویسٹرلی ویو) بھی بیک وقت بالائی علاقوں کو متاثر کر رہا ہے، جس کی وجہ سے بارشوں میں مزید تیزی متوقع ہے۔

آج اور کل کی پیشگوئی

منگل (آج): اسلام آباد، پوٹھوہار ریجن، شمال مشرقی پنجاب، کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش متوقع ہے، جبکہ بعض مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان بھی ہے۔ ملک کے باقی حصوں میں حبس اور گرم موسم رہنے کی توقع ہے۔

بدھ: اسلام آباد، پوٹھوہار ریجن، بالائی پنجاب، کشمیر، بالائی و وسطی خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں بارش، ہواؤں اور گرج چمک کا سلسلہ جاری رہے گا، جبکہ دیگر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کا حال

گزشتہ روز اسلام آباد اور پوٹھوہار ریجن میں وسیع پیمانے پر بارش، تیز ہوائیں اور گرج چمک ریکارڈ کی گئیں، جبکہ شمال مشرقی پنجاب، بالائی خیبرپختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان اور کشمیر کے بعض مقامات پر بھی بارش ہوئی۔ سب سے زیادہ بارش راولپنڈی کے علاقے شمس آباد میں 118 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ منگلا میں 82، اٹک میں 77 اور پیر ودھائی میں 81 ملی میٹر بارش درج ہوئی۔ دریں اثنا نوکنڈی میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

این ڈی ایم اے بھی متحرک

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بھی حالیہ دنوں میں ملک بھر میں شہری سیلاب اور دریاؤں، ندی نالوں اور پہاڑی ندیوں (ہل ٹورنٹس) میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا انتباہ جاری کیا تھا۔ حکام کے مطابق راولپنڈی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، اوکاڑہ اور لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہر متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے ہل ٹورنٹس میں بھی سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔ تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1548 فٹ اور ذخیرہ صلاحیت تقریباً 98 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

این ڈی ایم اے نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ سیلاب زدہ اور سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں کا غیر ضروری سفر نہ کیا جائے، سیلابی پانی میں پیدل یا گاڑی کے ذریعے داخل ہونے سے گریز کیا جائے اور سفر سے قبل موسم اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کی جائے۔

سوشل میڈیا پر شہریوں کا ردعمل

بارشوں اور ممکنہ شہری سیلاب کی خبر پھیلتے ہی سوشل میڈیا پر صارفین نے راولپنڈی اور اسلام آباد کی سڑکوں پر جمع پانی، ٹریفک جام اور نشیبی محلوں میں پانی داخل ہونے کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنا شروع کر دیں۔ صارفین نے بلدیاتی اداروں کی نکاسی آب کے ناقص انتظامات پر بھی تنقید کی، جبکہ کئی صارفین نے رمنا ندی اور نالہ لئی کے بڑھتے ہوئے پانی کی سطح کے مناظر بھی پوسٹ کیے۔ مقامی صحافیوں اور موسمیاتی اکاؤنٹس نے شہریوں کو محتاط رہنے اور غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلنے کی تلقین کی۔ مری اور گلیات جانے والے سیاحوں کو بھی سوشل میڈیا کے ذریعے موسم کی غیر یقینی صورتحال سے آگاہ رہنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔

کسانوں اور سیاحوں کے لیے ہدایات

محکمہ موسمیات نے کسانوں سے کہا ہے کہ وہ زرعی سرگرمیوں اور مویشیوں کی دیکھ بھال کا شیڈول موجودہ بارشوں کی پیشگوئی کے مطابق ترتیب دیں۔ سیاحوں اور مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر یقینی موسمی صورتحال کے پیش نظر پہاڑی علاقوں کا سفر کرتے وقت احتیاط برتیں۔ متعلقہ اداروں کو بھی الرٹ رہنے اور بروقت حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

آن لائن فراڈ میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے آن لائن فراڈ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے