
رین ایمرجنسی نافذ، نشیبی علاقے زیرِ آب
جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھار بارش کے باعث کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے رین ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
ایم ڈی واسا کے مطابق نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 10.5 فٹ جبکہ گوالمنڈی کے مقام پر 8.5 فٹ ریکارڈ کیا گیا۔ راولپنڈی کے علاقے شمس آباد میں سب سے زیادہ 116 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ نشیبی علاقوں میں واسا کا عملہ اور ہیوی مشینری تعینات کر دی گئی ہے۔
ایم ڈی واسا کے مطابق لیاقت باغ، کمیٹی چوک انڈر پاس اور مری روڈ کے نشیبی علاقوں میں ہیوی مشینری تعینات ہے، اسی طرح ڈھوک کھبہ، سرکلر روڈ اور صادق آباد میں بھی مشینری الرٹ پر رکھی گئی ہے۔
فلڈ کنٹرول روم اور محکمہ موسمیات کی تازہ اپ ڈیٹ
فلڈ کنٹرول روم کے مطابق اسلام آباد میں گولڑہ کے مقام پر بارش کی شرح سب سے زیادہ رہی، جو ماضی قریب میں بھی 146 ملی میٹر تک ریکارڈ ہو چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق نالہ لئی سے متصل چکلالہ کنٹونمنٹ کے علاقے ڈھوک کالا خان، ممتاز ٹاؤن، بنارس ٹاؤن اور افضل ٹاؤن میں بھی بارش کا پانی گلیوں اور گھروں میں داخل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے بھر میں مون سون بارشوں کے چھٹے سپیل کا الرٹ جاری کیا ہے، جس کے مطابق آئندہ دنوں میں راولپنڈی، مری، گلیات، جہلم، چکوال، اٹک، سیالکوٹ، نارووال اور منڈی بہاؤالدین سمیت گوجرانوالہ، گجرات، حافظ آباد اور وزیرآباد میں بارشوں کا امکان ہے۔ لاہور، قصور، اوکاڑہ، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور نورپور تھل کے علاقے بھی اس سپیل کی زد میں آ سکتے ہیں، جبکہ فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، لیہ، بھکر، ساہیوال، پاکپتن، بہاولنگر، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان میں 20 اور 21 اگست کو بارش متوقع ہے۔
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور لاہور کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ جبکہ مری، گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔
سوشل میڈیا پر صورتحال
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی نالہ لئی کے بپھرنے، سڑکوں پر پانی جمع ہونے اور نشیبی محلوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے کی ویڈیوز اور تصاویر مسلسل شیئر کی جا رہی ہیں، جن میں شہری انتظامیہ سے فوری نکاسیِ آب اور امدادی کارروائیوں کی اپیل کی جا رہی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی نم آلود ہوائیں ملک کے وسطی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں جس کے باعث بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوا ہے۔
انتظامیہ نے شہریوں کو نالوں اور زیرِ تعمیر علاقوں سے دور رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کی ہے، جبکہ ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔
UrduLead UrduLead