
نیدرلینڈز کے یونیورسٹی میڈیکل سینٹر گروننجن (یو ایم سی جی) کے ماہرینِ قلب کی قیادت میں ہونے والی تین نئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈائیگوکسن کی کم خوراک ہارٹ فیلیئر کے مریضوں کو اسپتال میں داخل ہونے سے بچانے اور موت کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ یہ تحقیقات ماہرینِ امراضِ قلب ڈرک یان وان فیلڈھوئزن، کیون ڈامن اور پیٹر وان ڈیر میئر کی سربراہی میں مکمل کی گئیں، اور محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج مستقبل میں ہارٹ فیلیئر کے علاج کے رہنما اصولوں پر نظرثانی پر مجبور کر سکتے ہیں۔
تحقیق میں کیا سامنے آیا
نتائج کے مطابق ڈی سیژن (DECISION) کلینیکل ٹرائل کا ڈیٹا دو سابقہ بے ترتیب مطالعات کے ساتھ ملا کر تجزیہ کیا گیا تو ہارٹ فیلیئر کے بگڑنے کے واقعات میں کمی کے باعث اسپتال داخلوں میں 25 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اگرچہ اس مجموعی علاج سے مجموعی شرح اموات میں کمی نہیں آئی، تاہم ہارٹ فیلیئر کے بگڑنے کے باعث اسپتال داخلوں میں 28 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس سے قبل جرمن مطالعے ڈیجٹ-ایچ ایف (DIGIT-HF)، جس میں ڈیجیٹوکسن کا جائزہ لیا گیا تھا، میں مجموعی اموات اور پہلی مرتبہ ہارٹ فیلیئر کے باعث اسپتال داخلے کے مشترکہ خطرے میں 15 فیصد کمی دیکھی گئی تھی۔
یو ایم سی جی کی تیسری اور تازہ ترین تحقیق میں ڈی سیژن ٹرائل میں شامل رہنے والے تقریباً 600 مریضوں کی، علاج ختم ہونے کے بعد بھی، نگرانی جاری رکھی گئی۔ یہ نتائج طبی جریدے نیچر میڈیسن (Nature Medicine) اور جاما (JAMA) میں شائع ہوئے، اور رواں سال یورپی سوسائٹی آف کارڈیالوجی کی ہارٹ فیلیئر 2026 کانفرنس میں بطور “لیٹ بریکنگ سائنس” پیش کیے گئے۔
ایک پرانی دوا کا نیا امتحان
ڈائیگوکسن دل کے امراض کے علاج میں استعمال ہونے والی قدیم ترین دوا سمجھی جاتی ہے، مگر 1997 میں شائع ہونے والے ڈی آئی جی (DIG) ٹرائل کے بعد سے اس کی افادیت پر بحث جاری تھی۔ اس وقت کے مطالعے میں اموات کی شرح پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا تھا، البتہ اسپتال داخلوں میں 30 فیصد کمی دیکھی گئی تھی۔ بعد ازاں 2016 میں ایک میٹا اینالسِس میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ڈائیگوکسن اموات کے بڑھتے خطرے سے جڑی ہو سکتی ہے، جس نے اس دوا کے استعمال پر مزید سوالات کھڑے کر دیے تھے۔ نئی تحقیقات کے سربراہ پروفیسر ڈرک وان فیلڈھوئزن کے مطابق پرانے مطالعات میں ممکنہ طور پر دوا کی خوراک ضرورت سے زیادہ رکھی گئی تھی، جبکہ نئی تحقیق میں کم خوراک کا جائزہ لیا گیا اور اسے عمومی طور پر محفوظ اور قابلِ برداشت پایا گیا۔
ہارٹ فیلیئر کا بڑھتا ہوا چیلنج
ہارٹ فیلیئر ایک سنگین اور بڑھتا ہوا طبی مسئلہ ہے۔ نیدرلینڈز میں ہی پانچ لاکھ سے زائد افراد اس کیفیت کا شکار ہیں، جبکہ عالمی سطح پر یہ تعداد تقریباً 6 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ ہارٹ فیلیئر کے مریضوں کا دل خون کو مؤثر طریقے سے پمپ نہیں کر پاتا، جس کے نتیجے میں شدید سانس پھولنا، کمزوری اور بار بار اسپتال داخلے جیسی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔ فی الحال ہارٹ فیلیئر کے معیاری علاج میں چار مختلف ادویات کا مجموعہ استعمال ہوتا ہے، جسے طبی حلقوں میں “فنٹاسٹک فور” کہا جاتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اگر کم خوراک ڈائیگوکسن کو رہنما اصولوں میں شامل کیا جائے تو یہ اس مؤثر مجموعے کے ساتھ ایک سستا اور قابلِ رسائی اضافہ ثابت ہو سکتی ہے۔
طبی حلقوں اور سوشل میڈیا پر ردعمل
ان نتائج نے عالمی طبی برادری میں خاصی دلچسپی پیدا کی ہے۔ میڈاسکیپ کے فرانسیسی ایڈیشن نے 2013 میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ کیا ڈائیگوکسن اب بھی ہارٹ فیلیئر کے علاج میں استعمال ہونی چاہیے — اور اب، ایک دہائی سے زائد عرصے بعد، نئی تحقیق نے اسی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ کاسابلانکا کے ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر احمد بنیس نے میڈاسکیپ کو بتایا کہ یہ دوا کی حقیقی بحالی ہے، خاص طور پر ڈیجیٹوکسن کی، جو جگر کے ذریعے میٹابولائز ہوتی ہے جبکہ ڈائیگوکسن گردوں کے ذریعے۔ طبی جریدوں اور آن لائن پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی بحث میں اس تحقیق کو “قدیم اور سستی دوا کی واپسی” کے طور پر سراہا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جدید ہارٹ فیلیئر ادویات کی قیمتیں بہت سے مریضوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔ سائنس نیوز ویب سائٹس اور طبی برادری کے سوشل میڈیا صفحات پر بھی یہ خبر تیزی سے شیئر ہو رہی ہے، جہاں صارفین اسے “10 سینٹ کی دوا جو اسپتال داخلے 25 فیصد تک کم کر دے” کے عنوان سے پیش کر رہے ہیں۔
آگے کیا ہوگا
محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج حتمی نہیں بلکہ ایک اہم قدم ہیں، اور رہنما اصولوں میں تبدیلی سے پہلے مزید جائزہ اور بحث درکار ہوگی۔ تاہم اگر یہ سفارشات آگے بڑھیں تو دنیا بھر میں لاکھوں مریض، جن کے پاس مہنگی جدید ادویات تک رسائی محدود ہے، اس سستی اور آسانی سے دستیاب دوا سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہارٹ فیلیئر کے مریض اپنے علاج میں کسی بھی تبدیلی سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں، کیونکہ خوراک اور دیگر ادویات کے ساتھ تعامل ہر مریض کے لیے مختلف ہو سکتا ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
UrduLead UrduLead