ہفتہ , اگست 15 2026

AI کے دور میں: طلبہ اور والدین دونوں پریشان

امریکہ بھر میں کالج کے طلبہ اور ان کے والدین ایسے تعلیمی شعبوں (majors) کی تلاش میں ہیں جنہیں مصنوعی ذہانت (AI) آسانی سے متاثر نہ کر سکے۔ صورتحال اتنی سنگین ہو چکی ہے کہ خود ماہرینِ تعلیم بھی مانتے ہیں کہ کسی ایک “AI-proof” شعبے کی نشاندہی کرنا اب ممکن نہیں رہا۔

معاملہ اہم کیوں ہے

AI روزگار کی منڈی میں انٹری لیول ملازمتوں کے لیے درکار مہارتوں کو تیزی سے بدل رہا ہے، اور کالج انتظامیہ اس تبدیلی کے مطابق نصاب کو ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امریکن یونیورسٹی کے کوگوڈ سکول آف بزنس کی قائم مقام ڈین کیسی ایونز کہتی ہیں کہ اساتذہ اور منتظمین کو اب زیادہ توجہ اس بات پر دینی ہوگی کہ طلبہ اپنی ڈگری کے ساتھ عملی طور پر کیا کریں گے۔ ان کے مطابق والدین بھی اب کھل کر پوچھتے ہیں کہ یونیورسٹی کا آجروں (employers) سے کیا رابطہ ہے اور انٹرن شپ کی شرح کیا ہے۔

اعداد و شمار کیا کہتے ہیں

  • سپرہیومن (پہلے گریمرلی) کے حالیہ سروے، جس میں 2,000 امریکی طلبہ شامل تھے، کے مطابق تقریباً 69 فیصد طلبہ کو خدشہ ہے کہ AI کی وجہ سے نوکری ملنا مشکل ہو جائے گا۔
  • صرف 45 فیصد طلبہ گریجویشن کے بعد جاب مارکیٹ کے بارے میں پرامید ہیں۔
  • 22 فیصد طلبہ نے تسلیم کیا کہ انہوں نے جاب مارکیٹ کے خدشات کی بنا پر اپنا میجر یا شعبہ تبدیل کر لیا۔

اس کے علاوہ لومینا فاؤنڈیشن اور گیلپ کے ایک تازہ سروے میں سامنے آیا کہ تقریباً نصف کالج طلبہ نے AI کے ممکنہ اثرات کی وجہ سے اپنا میجر یا شعبہ تبدیل کرنے کے بارے میں کم از کم کافی حد تک سوچا ہے۔ اسی سروے کے مطابق تقریباً 16 فیصد طلبہ نے واقعی اپنا میجر تبدیل بھی کر لیا، اور یہ رجحان مردوں میں خواتین کے مقابلے زیادہ اور ٹیکنالوجی و ووکیشنل شعبوں میں سب سے زیادہ دیکھا گیا۔ ہارورڈ کینیڈی اسکول کے ادارہ برائے سیاسیات کے 2025 کے سروے کے مطابق تقریباً 70 فیصد کالج طلبہ AI کو اپنے کیریئر کے امکانات کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

سوشل میڈیا اور صنعتی رہنماؤں کی آراء

یہ بحث صرف کیمپس تک محدود نہیں بلکہ سوشل میڈیا اور کارپوریٹ حلقوں میں بھی گرم ہے:

  • بلیک راک کے سی ای او لیری فنک نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی سفید پوش (white-collar) ملازمتوں کی بڑی تعداد کو متاثر کرے گا، اور ان کا خدشہ ہے کہ رواں سال کے گریجویٹس کو حالیہ برسوں کی بلند ترین بے روزگاری کا سامنا ہو سکتا ہے، چاہے کساد بازاری نہ بھی آئے۔ فنک کے بقول معاشرہ AI کی رفتار کے مطابق خود کو نہیں ڈھال پا رہا۔
  • ریڈٹ کے شریک بانی اور سی ای او سٹیو ہفمین نے البتہ مثبت پہلو اجاگر کیا، ان کے مطابق ان کی کمپنی نئے گریجویٹس کی بھرتی میں تیزی لائے گی کیونکہ نوجوان نسل زیادہ “AI native” ہے۔
  • فارچون کی رپورٹس کے مطابق کچھ ماہرین ان “محفوظ” سمجھے جانے والے شعبوں جیسے فارمیسی، حیاتیات اور تعلیم کے فارغ التحصیل طلبہ کی کم تنخواہوں کی طرف بھی نشاندہی کر رہے ہیں، جبکہ کچھ سی ای اوز خبردار کر چکے ہیں کہ نئے گریجویٹس میں بے روزگاری 30 فیصد تک جا سکتی ہے۔
  • ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ میں میامی یونیورسٹی کی طالبہ جوزفین ٹمپرمین کا حوالہ دیا گیا، جنہوں نے بزنس اینالیٹکس سے میجر تبدیل کر کے مارکیٹنگ اختیار کر لیا۔ ان کے بقول ہر کسی کو یہ خوف ہے کہ انٹری لیول نوکریاں AI لے لے گا۔ ان کی نئی حکمتِ عملی تنقیدی سوچ اور باہمی رابطے کی مہارتیں مضبوط کرنا ہے، جو انسانوں کا اب بھی ایک واضح فائدہ ہیں۔
  • مانسٹر کی کیریئر ماہر وکی سلیمی کہتی ہیں کہ میکینک، الیکٹریشن، پلمبر اور نرس جیسی فرنٹ لائن ملازمتیں دیگر شعبوں کے مقابلے میں زیادہ AI-proof ہیں۔

اوپن اے آئی اور تعلیمی اداروں کا مؤقف

اوپن اے آئی میں تعلیم کی نائب صدر لیہ بیلسکی کے مطابق مستقبل میں آجر تنقیدی سوچ، AI خواندگی، قیادت اور ٹیم ورک جیسی منتقل پذیر (transferable) مہارتوں کو ترجیح دیں گے۔ امریکن یونیورسٹی میں طلبہ کو سکھایا جاتا ہے کہ AI کی غلطیوں کی نشاندہی کیسے کی جائے، اخلاقی سوالات پر کیسے غور کیا جائے، اور یہ فیصلہ کیسے کیا جائے کہ ٹیکنالوجی کب واقعی فائدہ مند ہے۔ ڈین ایونز کے مطابق نصاب میں AI مہارتوں کے ساتھ رابطہ کاری، ٹیم ورک، پریزنٹیشن اور تنقیدی سوچ کی شرائط بھی شامل کی گئی ہیں، جو آجروں کی طلب میں اب بھی سرِفہرست ہیں۔

طلبہ کے تجربات: دو مختلف رویے

کیلیفورنیا یونیورسٹی، ڈیوس کے نوآموز طالب علم برٹن بیکر نے اکاؤنٹنگ سے شروعات کی، مگر جلد محسوس کیا کہ AI ان کا زیادہ تر کلاس ورک خود کر سکتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے فنانس کو بھی اپنے میجر میں شامل کر لیا تاکہ ملازمت کے مواقع اور مالی خواندگی دونوں بہتر ہوں۔ ان کے بقول اگر AI سب کچھ خود کر سکتا ہے تو اس شعبے میں جانے کا اب کوئی فائدہ نہیں۔

اس کے برعکس، نیویارک یونیورسٹی کے سیمی وائٹ، جو ڈرامیٹک رائٹنگ کے طالب علم ہیں اور تخلیقی کاموں کے لیے AI استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں، اتنے فکرمند نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ AI تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرے گا اور جاب مارکیٹ ویسے بھی مشکل رہے گی، اس لیے بہتر ہے کہ انسان وہی کام کرے جس سے اسے حقیقی لگاؤ ہو۔

حقیقت پسندانہ جائزہ

ڈین ایونز کے مطابق اکاؤنٹنگ فرمیں اب بھی بھرپور بھرتیاں کر رہی ہیں اور طلب رسد سے زیادہ ہے، تاہم آجر اکاؤنٹنگ سمیت ہر شعبے کے گریجویٹس سے پہلے سے کہیں زیادہ کی توقع رکھتے ہیں۔ نئے گریجویٹس سے اب یہ بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ منصوبوں اور AI ایجنٹس کا انتظام کریں، گہری تحقیق کریں، نتائج پیش کریں اور اپنے کام کا مؤثر انداز میں دفاع کر سکیں۔

نتیجہ

AI کچھ کام آسان ضرور بنا رہا ہے، مگر آجر انٹری لیول ملازمین سے توقعات کا معیار مسلسل بلند کر رہے ہیں۔ ماہرینِ تعلیم کا اتفاق ہے کہ سب سے محفوظ حکمتِ عملی کسی ایک “جادوئی” میجر کی تلاش نہیں بلکہ تنقیدی سوچ، AI خواندگی، رابطہ کاری اور موافقت (adaptability) جیسی مہارتوں پر توجہ دینا ہے۔

نوٹ: یہ خبر اصل میں ایک امریکی نیوز ویب سائٹ (Axios) پر شائع ہوئی تھی اور امریکی قارئین اور امریکی تعلیمی نظام کو مدِنظر رکھتے ہوئے لکھی گئی تھی لیکن یہ پاکستان میں طلبہ کو درپیش اسی صورتحال کی بھی عکاسی کرتا ہے

About Aftab Ahmed

Check Also

ایف آئی اے کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد

گلبرگ گرینز کا ٹاور سب جیل قرار، ملزمان کو ممکنہ طور پر ملک بدر کیے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے