پیر , اگست 17 2026

ایل پی جی نیلامی: صارفین پر 15 فیصد اضافی بوجھ کا خدشہ

مقامی ایل پی جی کی نیلامی کے نتائج قانونی تنازع کے باعث تاخیر کا شکار ہیں۔ ماہرین کے مطابق بونس سے ایل پی جی کی قیمت میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن نے 10 اگست کو ہونے والی مقامی ایل پی جی کی نیلامی کے نتائج روک رکھے ہیں۔ قانونی چیلنجز اور پالیسی اختلافات کے باعث نتائج ایک ہفتے سے زائد عرصے سے جاری نہیں کیے گئے۔

سرکاری شعبے کی تین بڑی ایل پی جی پیدا کرنے والی کمپنیوں نے بیک وقت نیلامی کی۔ ایک بولی دہندہ نے تین سال کے لیے پانچ ٹن یومیہ کے ایک لاٹ کی قیمت 205 ملین روپے پیش کی۔

ایک لاٹ میں پانچ ٹن ایل پی جی شامل ہے، جو تقریباً 425 گھریلو سلنڈروں کے برابر ہے۔ اس حساب سے دستخطی بونس کا اضافی بوجھ فی 11.8 کلوگرام سلنڈر تقریباً 440 روپے بنتا ہے۔

پاکستان میں ایل پی جی کی سالانہ طلب 1.4 ملین سے 2 ملین ٹن کے درمیان رہتی ہے۔ اس طلب کا نصف سے زیادہ حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے، جس سے مقامی پیداوار کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

نیلامی میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاک عرب ریفائنری کمپنی اور گورنمنٹ ہولڈنگز شامل ہیں۔ ان اداروں کو پانچ ٹن یومیہ کے معیاری لاٹس پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

یہ طریقہ کار موجودہ کوٹہ بیسڈ نظام کی جگہ آزمائشی بنیاد پر متعارف کرانے کی کوشش ہے۔ تاہم موجودہ ایل پی جی کاروباری حلقوں نے اس طریقہ کار کو عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ موجودہ پالیسی اور قواعد میں اس نوعیت کی نیلامی کی اجازت موجود نہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن اور متعلقہ سرکاری اداروں نے قانونی معاملے پر اٹارنی جنرل سے مشاورت بھی کی ہے۔

اوگرا کی جانب سے اگست کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 254.32 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔ جولائی میں ایل پی جی کی قیمت 241.43 روپے فی کلو تھی، جس کے مقابلے میں اگست میں 12.89 روپے اضافہ ہوا۔

11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی اوگرا کے مطابق قیمت تقریباً 3,000.93 روپے بنتی ہے۔ تاہم مارکیٹ میں صارفین کو یہی سلنڈر عموماً 3,600 روپے سے کم میں دستیاب نہیں ہوتا۔

نیلامی میں حاصل ہونے والا دستخطی بونس موجودہ قیمت پر تقریباً 15 فیصد اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے۔ یہ اضافہ بالخصوص بڑے شہروں سے باہر رہنے والے کم آمدنی والے صارفین کو متاثر کرسکتا ہے۔

پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے مقامی ایل پی جی کے لیے مسابقتی بولی کا عمل شروع کرنے کی ہدایت دی تھی۔ وزارت نے اس اقدام کا مقصد سرکاری اداروں کی آمدنی بڑھانا اور مقامی گیس کی بہتر مارکیٹنگ قرار دیا ہے۔

پی پی ایل کے ایک لاٹ سے سالانہ تقریباً 68.34 ملین روپے آمدنی کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق پی پی ایل کی مجموعی اضافی سالانہ آمدنی 4 سے 5 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

تقریباً 4.5 ارب روپے کی سالانہ اضافی آمدنی 66 لاٹس کے برابر بنتی ہے۔ یہ مقدار تقریباً 28,000 سلنڈروں کی یومیہ کھپت کے برابر ہے، جن پر فی سلنڈر تقریباً 440 روپے اضافی لاگت آسکتی ہے۔

تاہم حکومتی اجلاس کے ریکارڈ میں دستخطی بونس کا بوجھ صارفین پر منتقل نہ کرنے کی ہدایت موجود ہے۔ کم آمدنی والے صارفین کے لیے ممکنہ ریلیف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے دینے کی تجویز بھی زیر غور رہی ہے۔

حکام نے خبردار کیا کہ ایک ہی ایل پی جی کے لیے مختلف قیمتیں مقرر کرنا مارکیٹ میں بگاڑ پیدا کرسکتا ہے۔ اسی وجہ سے ایک مسابقتی قیمت رکھنے اور کمزور صارفین کو مالی معاونت دینے کی تجویز سامنے آئی۔

دوسری جانب سرکاری اداروں کے لائسنس میں اوگرا کی مقررہ قیمت سے زائد پریمیم وصول کرنے پر پابندی موجود ہے۔ یہی شق نیلامی کے نئے طریقہ کار کے قانونی جواز پر بنیادی سوال اٹھا رہی ہے۔

اوگرا کے چیئرمین نے پیٹرولیم وزیر کو بتایا تھا کہ 2018 کا متعلقہ حکم ہائی کورٹ سے معطل ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں مسابقتی بولی یا دستخطی بونس پر واضح قانونی پابندی موجود نہیں۔

تاہم سرکاری ریکارڈ میں یہ بھی سامنے آیا کہ بعض ادارے ماضی میں ایسے طریقہ کار سے گریز کرتے رہے۔ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے ایک سابق ٹینڈر میں دستخطی بونس پر عدالتی کارروائی بھی ہوئی تھی۔

نئی پالیسی کے لیے معاشی رابطہ کمیٹی سے منظوری لینے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ تاہم حکام کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ نئی ہدایات مشترکہ مفادات کونسل سے منظور شدہ موجودہ پالیسی سے متصادم ہوسکتی ہیں۔

حتمی فیصلہ نہ ہونے تک مقامی ایل پی جی کی نیلامی کے نتائج غیر یقینی رہیں گے۔ حکومت کو قانونی تقاضوں اور صارفین کے تحفظ کے درمیان متوازن طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پاکستان کا 9 ارب ڈالر کا بیٹری منصوبہ

کیا پالیسی درآمدات پر انحصار کو صنعتی بنیاد میں بدل سکے گی؟ پاکستان کا توانائی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے