
پاکستان ہاکی ٹیم آج ایف آئی ایچ مینز ہاکی ورلڈ کپ 2026 میں اپنے پول ڈی کے دوسرے میچ میں ویلز کے مقابل آئے گی، جہاں گرین شرٹس کی نظریں انگلینڈ کے ہاتھوں ملنے والی شکست کے بعد واپسی پر ہوں گی۔ یہ میچ ویگنر ہاکی اسٹیڈیم، ایمسٹل وین میں کھیلا جائے گا۔
پہلے میچ کا جائزہ
پاکستان نے ٹورنامنٹ کا آغاز انگلینڈ کے خلاف 1-4 کی شکست سے کیا۔ انگلینڈ نے میچ کے آغاز ہی سے دباؤ برقرار رکھا اور چاروں کوارٹرز میں برتری قائم رکھی، جبکہ پاکستان کی جانب سے واحد گول رحمان عبدالافراز نے پچاسویں منٹ میں کیا۔ 2018 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ میں شریک ہونے والی پاکستانی ٹیم کا دفاعی شعبہ انگلینڈ کے حملوں کے سامنے مسلسل دباؤ میں رہا، اور دو پنالٹی کارنرز ملنے کے باوجود ٹیم انہیں گول میں تبدیل نہ کر سکی۔
دوسری جانب ویلز کو بھی اپنے افتتاحی مقابلے میں بھارت کے ہاتھوں 1-3 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس میں کپتان ہرمن پریت سنگھ نے دو گول کیے تھے۔ یعنی دونوں ٹیمیں اپنے پہلے میچ میں شکست کے بعد آج جیت کی تلاش میں میدان میں اتریں گی، اور کوچز کے مطابق نتیجہ کوالیفیکیشن کی دوڑ میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
کوچز اور کھلاڑیوں کا مؤقف
پاکستان ہاکی ٹیم کی قیادت ابوبکر محمود کر رہے ہیں، اور ٹیم نے ورلڈ کپ سے قبل نیدرلینڈز میں تیاری کے دوران جنوبی افریقہ اور جاپان کے خلاف وارم اپ مقابلے کھیلے تھے، جن میں جاپان کے خلاف 1-2 سے کامیابی حاصل کی گئی تھی جبکہ جنوبی افریقہ کے ہاتھوں 1-3 سے شکست ہوئی تھی۔ نیدرلینڈز میں غیر معمولی گرمی، جہاں درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا تھا، بھی کھلاڑیوں کے لیے ایک چیلنج رہی ہے، تاہم موسم میں بتدریج بہتری متوقع ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
انگلینڈ سے شکست کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی شائقین کی جانب سے دفاعی شعبے کی کمزوری اور پنالٹی کارنرز ضائع کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جبکہ کئی صارفین نے آٹھ سال بعد ورلڈ کپ میں واپسی کو بذاتِ خود ایک کامیابی قرار دیا۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور انسٹاگرام پر #GreenShirts اور #PakvWal جیسے ہیش ٹیگز کے تحت شائقین ٹیم کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور ویلز کے خلاف میچ کو “کم بیک” کا موقع قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان ہاکی ٹیم کے سرکاری اکاؤنٹس سے بھی کھلاڑیوں کی تربیتی سرگرمیوں کی جھلکیاں شیئر کی جا رہی ہیں، جن پر مداحوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی دیکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ویلش شائقین بھی بھارت کے خلاف ابتدائی شکست کے باوجود اپنی ٹیم کی جانب سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت پر پراعتماد نظر آتے ہیں۔
آگے کیا؟
پول ڈی میں پاکستان، انگلینڈ، بھارت اور ویلز شامل ہیں، اور پاکستان کو 19 اگست کو روایتی حریف بھارت کا سامنا کرنا ہے۔ ایسے میں ویلز کے خلاف آج کا میچ پاکستان کے لیے نہ صرف پوائنٹس بلکہ اعتماد بحال کرنے کے لیے بھی اہم ہے۔ پاکستان ہاکی ٹیم کے شائقین کے لیے میچ کی نشریات ملک میں ٹیپ میڈ کے ذریعے ڈیجیٹل، جبکہ پی ٹی وی اسپورٹس اور تماشا پر بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
پاکستان چار بار کی عالمی چیمپئن رہ چکی ہے (1971، 1978، 1982، 1994)، اور شائقین کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا موجودہ ٹیم دباؤ کے اس مرحلے سے نکل کر ورلڈ کپ میں اپنی روایتی کارکردگی دہرا پاتی ہے یا نہیں
UrduLead UrduLead