پیر , اگست 17 2026

’اے آئی‘ پاکستانی فنکاروں کے لیے مسئلہ

ڈیجیٹل شناخت کے تحفظ کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

پاکستان کی ٹیلی ویژن اور فلم انڈسٹری میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے استعمال نے فنکاروں کے لیے نئے خدشات جنم دے دیے ہیں۔ اداکاروں اور گلوکاروں کی جانب سے اپنی آواز، چہرے اور تخلیقی کام کے غیر مجاز استعمال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ ڈرامہ نگار بھی اے آئی کے بڑھتے عمل دخل کو اپنی تخلیقی آزادی کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

فنکاروں کی ڈیجیٹل شناخت کو خطرہ

پاکستانی شوبز انڈسٹری میں کئی فنکار اپنی ‘ڈیجیٹل نقل’ کے ممکنہ غلط استعمال اور اس پر کنٹرول کھو دینے پر پریشان ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی زیرِ بحث ہے، اور ہالی ووڈ میں اسکرین ایکٹرز گلڈ جیسی تنظیموں نے پہلے ہی اے آئی کے استعمال کے لیے واضح اصول طے کر رکھے ہیں، جن میں اداکار کی اجازت، معاوضہ اور محدود استعمال کی شرائط شامل ہیں۔ اسی طرز پر اب پاکستانی فنکار بھی ایک علیحدہ قانونی فریم ورک کا مطالبہ کر رہے ہیں جس میں ڈیجیٹل حقوق، استعمال کی مدت، معاوضہ اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔

اسکرپٹ رائٹرز بھی متاثر

مسئلہ محض چہرے یا آواز کی نقل تک محدود نہیں۔ سینئر اداکار اور اسکرپٹ رائٹر سید محمد احمد نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں انکشاف کیا کہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں اب متعدد لکھاری مصنوعی ذہانت کی مدد سے مکالمے اور اسکرپٹس تیار کر رہے ہیں، جن کا مقامی زبان، روایات اور معاشرتی انداز سے میل نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق پروڈیوسرز بھی ریٹنگ کی دوڑ میں لکھاریوں کی اصل تحریروں میں من مانی تبدیلیاں کر کے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے ایک ڈرامے کی سترہ اقساط تحریر ہونے کے باوجود پروڈیوسرز نے گیارہویں قسط کے بعد کا مکمل اسکرپٹ حذف کرنے کی ہدایت دے دی تھی۔

حکومتی سطح پر قانون سازی

بڑھتی ہوئی شکایات کے پیش نظر پنجاب حکومت نے فنکاروں کی آواز، چہرے اور ڈیجیٹل شناخت کے تحفظ کے لیے ‘پنجاب پرفارمرز ڈیجیٹل شناخت اور مصنوعی ذہانت تحفظ ایکٹ 2026’ کا مسودہ تیار کیا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت کسی بھی فنکار کی آواز یا چہرے کا اے آئی کے ذریعے غیر مجاز استعمال ممنوع قرار دیا جائے گا، جبکہ ہر اے آئی پرفارمنس کے لیے فنکار کی واضح تحریری رضامندی، الگ معاہدہ اور مناسب معاوضہ لازمی ہوگا۔ مسودے میں ڈیپ فیک اور وائس کلوننگ جیسے اقدامات پر کروڑوں روپے جرمانے اور تین سال تک قید کی سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔ اٹھارہ سال سے کم عمر فنکاروں کے لیے خصوصی تحفظ اور والدین کی اجازت کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ فوت شدہ فنکاروں کی ڈیجیٹل شناخت کو 25 سال تک قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔

عالمی صورتحال بھی مماثل

پاکستانی فنکاروں کے خدشات دنیا بھر میں جاری بحث سے ہم آہنگ ہیں۔ چند سیکنڈز کی آڈیو سے کسی بھی گلوکار کی آواز کی نقل تیار کرنے والے اے آئی ٹولز نے عالمی سطح پر بھی موسیقاروں کے لیے شدید خدشات پیدا کیے ہیں، جن میں مالی نقصان کے ساتھ ساتھ فنکاروں کی شناخت کی چوری جیسے معاملات بھی شامل ہیں۔ بھارت میں بھی گلوکار ارجیت سنگھ نے بمبئی ہائی کورٹ میں ایک اہم مقدمہ جیتا تھا، جس میں عدالت نے قرار دیا کہ کسی مشہور شخصیت کی آواز کی نقل ان کے شخصی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ امریکا میں بھی این او فیکس ایکٹ کے تحت فنکاروں کو تحفظ دینے کے لیے قانون سازی زیرِ غور ہے، جسے تفریحی صنعت کی بڑی تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔

سوشل میڈیا پر بحث

سوشل میڈیا پر پاکستانی فنکاروں اور شائقین کی جانب سے اس معاملے پر بھرپور ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کئی اداکار اور گلوکار اپنے ایکس اور انسٹاگرام اکاؤنٹس پر اے آئی کے ذریعے اپنی تصاویر اور آواز کے غیر مجاز استعمال کی مثالیں شیئر کرتے ہوئے مداحوں کو خبردار کر رہے ہیں کہ ایسے مواد کی تصدیق کیے بغیر اسے حقیقی نہ سمجھا جائے۔ صارفین کی بڑی تعداد پنجاب حکومت کی مجوزہ قانون سازی کو ایک مثبت قدم قرار دے رہی ہے، تاہم بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ قانون پر عمل درآمد اور اس کی نگرانی کا طریقہ کار واضح ہونا چاہیے تاکہ چھوٹے اور نوآموز فنکار بھی اس تحفظ سے مستفید ہو سکیں۔ تخلیقی برادری میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ اے آئی کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے بجائے اسے رضامندی اور معاوضے پر مبنی شفاف نظام کے تحت استعمال میں لایا جائے۔

آگے کیا؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کو روکنا ممکن نہیں، تاہم فنکاروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے واضح قانونی فریم ورک وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پنجاب کی مجوزہ قانون سازی کو اس سمت میں پہلا قدم قرار دیا جا رہا ہے، اور دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا دیگر صوبے اور وفاقی حکومت بھی اسی نوعیت کے تحفظ کو ملک بھر میں یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھاتے ہیں یا نہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پاکستان کا 9 ارب ڈالر کا بیٹری منصوبہ

کیا پالیسی درآمدات پر انحصار کو صنعتی بنیاد میں بدل سکے گی؟ پاکستان کا توانائی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے