اتوار , اگست 16 2026

پٹرولیم صارفین پر 26 ارب روپے کا اضافی بوجھ

یکم ستمبر سے اطلاق

وفاقی حکومت نے پٹرولیم ڈیلرز کا کمیشن 1 روپے 34 پیسے فی لیٹر بڑھانے کی منظوری دے دی ہے، جس کے نتیجے میں پٹرول اور ڈیزل کے صارفین پر سالانہ 26 ارب روپے سے زائد کا اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب پیٹرولیم ڈیلرز نے ملک گیر ہڑتال کی دھمکی واپس لے لی ہے۔

ای سی سی کا فیصلہ

وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں پیٹرول اور ڈیزل پر ڈیلرز مارجن میں نظرثانی کی منظوری دی گئی۔ اس فیصلے کے بعد ڈیلرز مارجن 8 روپے 64 پیسے سے بڑھ کر 9 روپے 98 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے، یعنی مجموعی مارجن تقریباً 10 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ ترمیم شدہ مارجن کا اطلاق یکم ستمبر 2026 سے ہوگا۔ یہ فیصلہ پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) کے تین سال پرانے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے کیا گیا۔

ہڑتال کی دھمکی، بروقت مذاکرات

پی پی ڈی اے نے 15 اگست سے غیر معینہ مدت کے لیے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر رکھا تھا۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے کراچی میں ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک سے گزشتہ ملاقات میں ماحول کشیدہ رہا تھا، تاہم بعد میں وزیر نے ٹیلیفونک رابطے میں مارجن بڑھانے کی یقین دہانی کرائی اور وزیراعظم شہباز شریف سے خصوصی منظوری لے کر معاملہ ای سی سی کو بھجوایا گیا۔ آل پاکستان پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین نعمان بٹ نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم اور وزیرِ پیٹرولیم کا شکریہ ادا کیا۔

ڈیلرز کے 8 فیصد مارجن کے اصل مطالبے پر ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو 30 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے معاملے پر بھی ڈیلرز کو ریلیف دیا گیا: ڈیبٹ کارڈ لین دین پر 80 پیسے رعایت کے بجائے اب ایک روپے فی لیٹر مقررہ چارج قبول کیا گیا ہے، جسے ڈیلرز نے تقریباً 70 فیصد ریلیف قرار دیا۔ تاہم روزانہ کے بجائے ماہانہ یا سہ ماہی بنیادوں پر قیمتیں مقرر کرنے کا ڈیلرز کا مطالبہ حکومت نے مسترد کر دیا۔

صارفین پر کتنا بوجھ پڑے گا؟

پاکستان میں اوسط ماہانہ پٹرول کھپت تقریباً 660,000 ٹن (926.64 ملین لیٹر) ہے، جس کے حساب سے نئے مارجن سے صارفین پر ماہانہ تقریباً 1.24 ارب روپے اور سالانہ تقریباً 15 ارب روپے اضافی بوجھ پڑے گا۔ ڈیزل کی ماہانہ کھپت تقریباً 600,000 ٹن (714 ملین لیٹر) ہے، جس پر صارفین ماہانہ مزید 957 ملین روپے ادا کریں گے، یعنی سالانہ تقریباً 11.5 ارب روپے کا اضافی بوجھ۔ دونوں مصنوعات ملا کر مجموعی سالانہ بوجھ 26 ارب روپے سے تجاوز کر جائے گا۔

فی الوقت ملک میں پیٹرول 325 روپے 43 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 383 روپے 95 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہے۔ قیمت کے ڈھانچے میں ڈیلرز مارجن کے علاوہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن، ان لینڈ فریٹ ایکویلائزیشن مارجن، کلائمیٹ سپورٹ لیوی، پٹرولیم لیوی اور کسٹمز ڈیوٹی بھی شامل ہیں — 14 اگست کے ڈھانچے کے مطابق کسٹمز ڈیوٹی کے علاوہ پٹرول پر مقررہ چارجز 108.99 روپے اور ڈیزل پر 104.42 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکے تھے۔

معیشت کے دیگر شعبوں پر اثرات

ایندھن کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی معیشت کے وسیع تر شعبوں کو متاثر کرتا ہے۔ مال بردار گاڑیاں، پبلک ٹرانسپورٹ اور کاروباری ادارے اضافی لاگت صارفین تک منتقل کر سکتے ہیں، جس سے سبزیوں، دودھ، اشیائے خورونوش، ادویات اور تیار مصنوعات کی ترسیل مہنگی ہو سکتی ہے اور ٹرانسپورٹ کرایوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ڈیلرز اب مارجن کو مقررہ رقم کے بجائے خوردہ قیمت کے 8 فیصد کے برابر مقرر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں — اگر یہ مطالبہ منظور ہوا تو قیمتیں بڑھنے کے ساتھ ڈیلرز کی آمدنی بھی خودکار طور پر بڑھتی رہے گی۔

سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور مارجن میں اضافے کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ صارفین نے ماضی کی طرح اس بار بھی حکومتی فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ڈیلرز کا منافع تو محفوظ کر لیا گیا مگر عام صارف پر بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے۔ کئی صارفین نے یاد دلایا کہ اس سے قبل بھی پیٹرولیم قیمتوں سے متعلق حکومتی اعلانات پر عوامی حلقوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، اور ماہانہ مہنگائی میں مسلسل اضافے کے تناظر میں اس فیصلے کو غیر ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ پی پی ڈی اے نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا بیان میں ہڑتال کی دھمکی کو ہی مارجن میں اضافے کی بنیادی وجہ قرار دیا۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مارجن، لیویز اور قیمتوں کے تعین کا طریقۂ کار عام شہریوں کے ماہانہ بجٹ اور مجموعی قومی مہنگائی پر براہِ راست اثر انداز ہوگا

About Aftab Ahmed

Check Also

AI کے دور میں: طلبہ اور والدین دونوں پریشان

امریکہ بھر میں کالج کے طلبہ اور ان کے والدین ایسے تعلیمی شعبوں (majors) کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے