
اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر ہونے والا نیا پرائم ٹائم ڈرامہ “درِ نجات” اپنی کہانی کے ایک غیر متوقع موڑ کی وجہ سے سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آ گیا ہے۔
ڈرامہ معروف مصنفہ عمیرہ احمد کے قلم سے لکھا گیا ہے جبکہ ہدایت کار ثاقب خان کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ شہریار منور صدیقی، سلمان اقبال اور ثانیہ سلمان اقبال اس کے پروڈیوسرز ہیں۔
ڈرامے کی کہانی روحانیت کے موضوع کے گرد گھومتی ہے اور ایک نوجوان لڑکی کے عقیدے، عزائم اور ذاتی سفر کو موضوع بناتی ہے۔
اب تک ڈرامے کی چار اقساط نشر ہو چکی ہیں، تاہم حالیہ قسط نے ناظرین کو حیران کر دیا جب زریاب اپنی دوست زامل کے گھر پہنچتی ہے۔ سین اگلی صبح پر کٹ ہوتا ہے، جہاں زریاب کی دادی اس کی رات کی غیر موجودگی کے بارے میں دریافت کرتی ہیں مگر زریاب خاموش رہتی ہے۔ سین کو جس انداز میں فلمایا گیا، اس سے ناظرین کو تاثر ملا کہ زریاب اور زامل کے درمیان جسمانی تعلق قائم ہوا ہے۔ زامل کی غیر موجودگی اور اس کے بعد بھیجے گئے شرمندگی بھرے پیغام نے بھی اس شبہے کو مزید تقویت دی۔
ناظرین کے مطابق اس قسط میں زامل کے والدین کی جانب سے زریاب سے “غلطی” کے بارے میں پوچھے جانے پر زریاب جھوٹ بولتی ہے، جبکہ زریاب کی چھوٹی بہن بھی اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ وہ رات گھر سے باہر رہی۔
عمیرہ احمد کی تصدیق، فینز میں بحث تیز
اس حساس موڑ پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف نے عمیرہ احمد سے براہِ راست سوال کیا کہ آیا “برات کے سین کے بعد جب زریاب دیر سے گھر آتی ہے اور دادی کہتی ہیں کہ حیا سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا” — کیا اس منظر اور زریاب کے چہرہ و ہاتھ دھونے کے انداز سے یہی مراد لی جائے کہ دونوں کے درمیان جسمانی تعلق قائم ہوا؟ عمیرہ احمد نے مختصر جواب میں اس کی تصدیق کر دی۔
اس جواب کے بعد ڈرامے کے مداحوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ ایک روحانیت پر مبنی کہانی میں اس نوعیت کا موڑ غیر متوقع اور حساس موضوع پر مبنی ہے، جبکہ دیگر صارفین اسے کردار کی اخلاقی کشمکش اور “توبہ و نجات” کے مرکزی خیال سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
ڈرامہ بلاگرز اور آن لائن جائزہ نگاروں نے بھی اس پیش رفت پر لکھتے ہوئے نشاندہی کی کہ آنے والی اقساط میں زامل کی دورانِ خفت گھر سے دوری اور زریاب کی نسبت خاندان میں کشیدگی مزید بڑھتی دکھائی دی ہے۔
ڈرامے کے مرکزی کردار زریاب کا کردار دُرِ فشاں سلیم اور زامل کا کردار نمیر نواز خان ادا کر رہے ہیں، جبکہ ابوبکر کے مرکزی کردار میں شہریار منور صدیقی نظر آ رہے ہیں۔
“درِ نجات” ہر ہفتے اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر کیا جا رہا ہے اور مصنفہ کے مداحوں میں پہلے ہی سے مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔
UrduLead UrduLead