
گرین شرٹس کے ورلڈ کپ کے دوسرے مرحلے میں پہنچنے کا فیصلہ کل ہوگا
پاکستان ہاکی ٹیم کی ایف آئی ایچ مینز ہاکی ورلڈ کپ 2026 کے دوسرے مرحلے تک رسائی کا معاملہ آخری لمحات تک کھنچ گیا ہے، کیونکہ گرین شرٹس نے پول ڈی کے ابتدائی دو میچوں میں محض ایک پوائنٹ حاصل کیا ہے۔
پاکستان نے مہم کا آغاز انگلینڈ کے ہاتھوں 4-1 کی مایوس کن شکست سے کیا، تاہم دوسرے میچ میں ویلز کے خلاف زیادہ بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے 3-3 سے مقابلہ برابر کیا۔

ویلز کے خلاف حاصل ہونے والے نتیجے نے پاکستان کی کوالیفیکیشن کی امیدوں کو زندہ رکھا، مگر دوسرے مرحلے تک رسائی کا راستہ اب پول ڈی کے آخری راؤنڈ کے نتائج پر مکمل طور پر منحصر ہے۔
آج روایتی حریف بھارت سے ٹکراؤ
نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹل وین میں ویگنر ہاکی اسٹیڈیم میں پاکستان 19 اگست کو روایتی حریف بھارت کا سامنا کرے گا، جبکہ پول ڈی کے دوسرے میچ میں انگلینڈ اور ویلز آمنے سامنے ہوں گے۔ یاد رہے کہ یہ 16 برسوں میں پہلا موقع ہے کہ پاکستان اور بھارت ہاکی ورلڈ کپ میں مدمقابل آ رہے ہیں؛ اس سے قبل دونوں ٹیمیں 2010 کے ورلڈ کپ میں نئی دہلی میں کھیلی تھیں جہاں میزبان بھارت نے 4-1 سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ہاکی ورلڈ کپ کی تاریخ میں دونوں ممالک اب تک پانچ مرتبہ آمنے سامنے آچکے ہیں، جن میں بھارت نے تین اور پاکستان نے دو مقابلے جیتے ہیں۔
بھارت کی انگلینڈ کے ہاتھوں شکست نے پاکستان کو ریلیف دیا
گرین شرٹس کو اس وقت بڑا سہارا ملا جب میزبان بھارت کو انگلینڈ کے ہاتھوں 4-2 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے بھارت پول کی سرفہرست دو پوزیشنز کی دوڑ میں آسانی سے آگے نہ بڑھ سکا۔ رپورٹس کے مطابق بھارت نے ایک موقع پر 2-1 کی برتری بھی حاصل کر لی تھی، مگر انگلینڈ نے واپسی کرتے ہوئے مسلسل تین گول داغ کر مکمل پوائنٹس اپنے نام کیے، جس سے انگلینڈ کی پول میں سرفہرست دو ٹیموں میں شمولیت یقینی ہوگئی۔ اس نتیجے کے بعد بھارت فی الحال تین پوائنٹس کے ساتھ پول ڈی میں دوسرے نمبر پر موجود ہے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ بھارت کو سیمی فائنل کی دوڑ میں رہنے کے لیے صرف ایک ڈرا درکار ہے، جبکہ پاکستان کے لیے جیت کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔
کوالیفیکیشن کا امکانی منظرنامہ
- اگر پاکستان بھارت کو شکست دیتا ہے اور انگلینڈ ویلز کو ہراتا ہے تو گرین شرٹس دوسرے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر جائیں گے۔
- اگر انگلینڈ اور ویلز کا میچ برابر رہتا ہے اور پاکستان بھارت کو ہراتا ہے تو بھی پاکستان مضبوط پوزیشن میں ہوگا۔
- تاہم اگر ویلز نے انگلینڈ کو شکست دی تو معاملہ ہیڈ ٹو ہیڈ ریکارڈ یا گول ڈیفرنس پر جا سکتا ہے، جو ٹورنامنٹ کے قواعد پر منحصر ہوگا۔
پاکستانی کپتان کا مؤقف
پاکستان کے کپتان ابوبکر محمود نے ٹورنامنٹ سے قبل بھارتی ٹیم کی حالیہ برتری کو تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ لگاتار دو اولمپکس میں تمغے جیتنا کوئی معمولی کارنامہ نہیں، مگر پاکستانی دستہ بھی اس بار مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اترا ہے۔ خیال رہے کہ چار مرتبہ کی عالمی چیمپیئن پاکستان ٹیم 1971، 1978، 1982 اور 1994 کے عالمی کپ جیت چکی ہے، مگر 1994 کے بعد سے وہ ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل نہیں کر سکی، اور اس بار بھی ابتدائی مرحلے میں ہی باہر ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
نئے فارمیٹ کے تحت کوالیفیکیشن کا طریقہ کار
واضح رہے کہ 2026 کے ایڈیشن میں روایتی کوارٹر فائنل مرحلہ ختم کر دیا گیا ہے۔ 16 ٹیمیں چار پولز میں تقسیم ہیں، جن میں سے ہر پول کی سرفہرست دو ٹیمیں دوسرے مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی، یوں مجموعی طور پر آٹھ ٹیمیں اگلے مرحلے میں پہنچیں گی۔ پول اے اور ڈی کی ٹاپ ٹیمیں پول ای، جبکہ پول بی اور سی کی ٹاپ ٹیمیں پول ایف تشکیل دیں گی۔ ان دو گروپس کی سرفہرست دو، دو ٹیمیں براہ راست سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی۔ ٹورنامنٹ بیلجیئم اور نیدرلینڈز کی مشترکہ میزبانی میں 15 سے 30 اگست تک جاری رہے گا۔
سوشل میڈیا پر جوش و خروش
پاکستان-بھارت مقابلہ ہمیشہ کی طرح سوشل میڈیا صارفین کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ شائقین اور تجزیہ کاروں کی جانب سے دونوں ٹیموں کی لائن اپ، ماضی کے تاریخی مقابلوں اور ممکنہ نتائج پر مسلسل تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ ہاکی حلقوں میں یہ نکتہ بھی زیر بحث ہے کہ کرکٹ کے برعکس پاکستان-بھارت ہاکی مقابلے اب اس نوعیت کی سیاسی و جذباتی گرمجوشی سے کسی حد تک عاری ہو کر خالص کھیل کے میدان تک محدود ہو چکے ہیں، تاہم شائقین کی دلچسپی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ میچ کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق شام 6 بجے ہوگا۔
UrduLead UrduLead