
سرکاری ملکیتی پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے مختلف ڈپوؤں میں تقریباً تین لاکھ میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر میں مبینہ ردوبدل اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ملک بھر میں خصوصی انسپکشن ٹیمیں تعینات کر دی ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ایک ہفتے کے دوران چھ بڑے فیول ڈپوؤں میں غیر معمولی اسٹاک ایڈجسٹمنٹ اور مبینہ بے ضابطہ آف ٹیک کے ذریعے تقریباً تین لاکھ میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات کے ریکارڈ میں ردوبدل کیے جانے کے خدشات سامنے آئے ہیں۔ تحقیقات کا مقصد یہ جاننا ہے کہ آیا اسٹاک مینجمنٹ کے مقررہ قواعد کی خلاف ورزی کی گئی یا ذخائر کا ریکارڈ جان بوجھ کر تبدیل کیا گیا۔
جن ڈپوؤں کا ریکارڈ جانچا جا رہا ہے ان میں پی ایس او مچھیکے، گو کیماڑی، اٹک شکارپور، پی ایس او محمود کوٹ، راولپنڈی اور دیگر اہم ذخیرہ گاہیں شامل ہیں۔ متعلقہ حکام اسٹاک کی نقل و حرکت، آف ٹیک اور ایڈجسٹمنٹ کے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
اوگرا نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے اپنے انفورسمنٹ اہلکار مختلف علاقوں میں روانہ کر دیے ہیں تاکہ زمینی سطح پر ذخائر کی تصدیق کی جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایندھن کی سپلائی، اسٹوریج سہولیات اور ریٹیل پیٹرول پمپس کی سخت نگرانی یقینی بنائیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے ذریعے مبینہ بے ضابطگیوں کی نوعیت اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ملک بھر میں نگرانی کا عمل جاری رکھا جائے گا تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو اور ذخائر کے انتظام میں شفافیت برقرار رہے۔
اوگرا نے ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور ایندھن کی مسلسل دستیابی یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے ملک گیر مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔ اس مہم کے دوران اب تک ایک ہزار 922 پیٹرول پمپس کا معائنہ کیا جا چکا ہے، جبکہ آئل رولز 2016 کی مبینہ خلاف ورزی پر متعلقہ کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔
یہ تحقیقات ایسے وقت میں شروع کی گئی ہیں جب پاکستان کو پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ عالمی منڈی میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مغربی سرحدوں سے اسمگل ہونے والے ایندھن کی آمد میں کمی اور تقریباً ایک لاکھ 61 ہزار میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات لے کر آنے والے تین آئل ٹینکروں کی آمد میں تاخیر نے سپلائی کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
UrduLead UrduLead