
آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش اور قطر سے طویل المدتی معاہدوں کے تحت ایل این جی کارگو کی ترسیل متاثر ہونے کے بعد پاکستان مہنگی اسپاٹ مارکیٹ سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) خریدنے پر مجبور ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
سرکاری درآمدی کمپنی پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (PLL) نے حالیہ ٹینڈر میں 27 اور 28 جولائی کی ڈیلیوری کے لیے ٹوٹل انرجیز گیس اینڈ پاور لمیٹڈ سے ایل این جی کا ایک اسپاٹ کارگو 21.88 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (MMBtu) کی بلند ترین قیمت پر خریدا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران جنگ کے آغاز کے بعد یہ پاکستان کی جانب سے اسپاٹ مارکیٹ میں ادا کی جانے والی اب تک کی سب سے زیادہ قیمت ہے۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے پاکستان نے ایک اور اسپاٹ کارگو تقریباً 20.70 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو میں خریدا تھا، جو چار برس کی بلند ترین سطح سمجھی جا رہی تھی۔
پاکستان ماضی میں اپنی زیادہ تر ایل این جی ضروریات قطر کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں کے ذریعے نسبتاً کم قیمت پر پوری کرتا رہا ہے، تاہم آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے کے باعث قطری کارگو کی بروقت فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہوئی، جس کے بعد حکومت کو بار بار اسپاٹ مارکیٹ کا رخ کرنا پڑا۔
رواں ماہ کے دوران پاکستان کم از کم پانچ مرتبہ اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی خریدنے کے لیے ٹینڈر جاری کر چکا ہے تاکہ بجلی گھروں اور صنعتی شعبے کو گیس کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت جولائی کے لیے مزید ایک اضافی اسپاٹ ایل این جی کارگو خریدنے کے منصوبے کو حتمی شکل دے رہی ہے، جبکہ اگست میں ضرورت پوری کرنے کے لیے چھ تک اضافی کارگو درآمد کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی جغرافیائی کشیدگی، آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کی معطلی اور مشرق وسطیٰ سے توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث ایشیائی اسپاٹ ایل این جی مارکیٹ میں قیمتوں کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے، جس سے پاکستان کے درآمدی بل اور توانائی کے شعبے پر مزید مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔
UrduLead UrduLead