
مصنوعی ذہانت (AI) چپس کی عالمی دوڑ میں اینویڈیا کی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کی کوششوں نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ اب مقابلہ صرف زیادہ طاقتور اے آئی چپس بنانے تک محدود نہیں رہا بلکہ توجہ ایسے مکمل اے آئی انفراسٹرکچر کی تیاری پر مرکوز ہے جو کم توانائی میں زیادہ کارکردگی اور فی ٹوکن لاگت میں نمایاں کمی فراہم کر سکے۔
امریکی چپ ساز کمپنی اے ایم ڈی نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال کے آخر سے اپنے جدید “ہیلیوس” (Helios) اے آئی انفراسٹرکچر سسٹم کی فراہمی مائیکروسافٹ کو شروع کرے گی۔ مائیکروسافٹ اس سسٹم کو جدید اے آئی ماڈلز کی انفارنس سروسز اور اپنی ایژور اے آئی کلاؤڈ سروس کے لیے استعمال کرے گی۔
اس سے قبل میٹا، اوپن اے آئی اور اوریکل بھی اے ایم ڈی کے صارفین میں شامل ہو چکے ہیں، جبکہ مائیکروسافٹ کی شمولیت سے کمپنی کے اے آئی انفراسٹرکچر کاروبار کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔
ہیلیوس ایک مکمل اے آئی سپر کمپیوٹنگ سسٹم ہے جس میں اے ایم ڈی کے گرافکس پروسیسرز (GPUs)، سینٹرل پروسیسرز (CPUs)، نیٹ ورکنگ آلات اور سافٹ ویئر کو ایک ہی ریک میں مربوط کیا گیا ہے۔ اس نظام کو براہ راست ڈیٹا سینٹرز میں نصب کیا جا سکتا ہے، جس سے اداروں کو الگ الگ ہارڈویئر خریدنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
مارکیٹ میں اینویڈیا پہلے ہی اپنے گریس بلیک ویل (Grace Blackwell) اور آئندہ نسل کے ویرا روبن (Vera Rubin) ریک سسٹمز کے ذریعے اسی ماڈل پر کام کر رہی ہے، تاہم اے ایم ڈی بھی اب صرف چپس فروخت کرنے کے بجائے مکمل اے آئی انفراسٹرکچر فراہم کرنے والی کمپنی بننے کی کوشش کر رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت عالمی اے آئی ڈیٹا سینٹر چپ مارکیٹ پر اینویڈیا کا 95 فیصد سے زائد حصہ ہے، جبکہ اے ایم ڈی کا حصہ تقریباً 4.5 فیصد ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ہیلیوس کو بڑے پیمانے پر اپنایا گیا تو اے ایم ڈی اپنی مارکیٹ شیئر کو نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہے۔ فیوچرم گروپ کے چیف ایگزیکٹو ڈینیئل نیومین کے مطابق کمپنی مستقبل میں 20 سے 25 فیصد مارکیٹ شیئر حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
دوسری جانب گوگل بھی اینویڈیا پر انحصار کم کرنے کے لیے اپنے کسٹم اے آئی چپس تیار کر رہا ہے۔ کمپنی “پروزن وی ٹو” (Prozen v2) کے خفیہ نام سے ایک نئی چپ پر کام کر رہی ہے، جسے خصوصی طور پر جیمنی (Gemini) اے آئی ماڈل کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔
گوگل کے مطابق اس چپ میں جیمنی ماڈل کے ڈیٹا پروسیسنگ طریقہ کار کو پہلے سے شامل کیا جائے گا، جس سے فی یونٹ توانائی پر چھ سے دس گنا زیادہ ٹوکن پروسیس کیے جا سکیں گے اور اے آئی ماڈل کی رفتار میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس چپ کو 2028 تک سرورز میں تعینات کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
گوگل اپنے ٹینسر پروسیسنگ یونٹس (TPUs) کی ترقی بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اے آئی کمپیوٹنگ وسائل کی شدید قلت کے باعث بڑے ٹیک ادارے متبادل حل تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔
رپورٹس کے مطابق گوگل نے کمپیوٹنگ صلاحیت بڑھانے کے لیے حال ہی میں تقریباً 920 ملین ڈالر ماہانہ مالیت کے ڈیٹا سینٹرز لیز پر لینے کا معاہدہ بھی کیا ہے، جبکہ بعض صارفین کے لیے اے آئی وسائل کے استعمال پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں اب صرف تیز رفتار چپس بنانے کے بجائے ایسے مکمل اے آئی نظام تیار کرنے پر توجہ دے رہی ہیں جو کم لاگت، کم توانائی اور زیادہ مؤثر کارکردگی کے ذریعے اینویڈیا کی اجارہ داری کو چیلنج کر سکیں۔
UrduLead UrduLead