بدھ , جولائی 22 2026

10 ارب ڈالر کی مالی سہولت کی درخواست

پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے اور روپے پر دباؤ کم کرنے کے لیے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی دوطرفہ زرِ مبادلہ استحکام سہولت (Exchange Stabilization Support Facility) فراہم کرنے کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو بھیجی گئی درخواست میں پانچ سالہ مدت کے لیے 10 ارب ڈالر کی مالی سہولت طلب کی ہے۔ اس سہولت کی منظوری کی صورت میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، روپے کی قدر کو سہارا ملنے اور بیرونی مالی دباؤ میں کمی کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے سفارتی کردار اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کے بعد سامنے آئی ہے، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا۔

ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس درخواست کی منظوری دیتا ہے تو پاکستان کو زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط رکھنے، روپے کی قدر میں استحکام لانے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) یا دیگر کثیرالجہتی مالیاتی اداروں سے ہنگامی امداد پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) پروگرام کے تحت مالیاتی اور اقتصادی اصلاحات پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ ان اصلاحات میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ، سرکاری اخراجات میں کمی اور مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانا شامل ہے۔

ملک 2023 میں آئی ایم ایف کے 3 ارب ڈالر کے ہنگامی پروگرام کی بدولت ممکنہ ڈیفالٹ سے بچ گیا تھا، جس کے بعد اسے 7 ارب ڈالر کا توسیعی قرض پروگرام حاصل ہوا۔ اس کے باوجود پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی بیرونی قرضوں، دوست ممالک کی مالی معاونت اور قرضوں کی تجدید پر بڑی حد تک انحصار کرتے ہیں۔

تاحال پاکستان کی وزارت خزانہ اور امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے اس درخواست پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پیٹرول، ڈیزل مہنگا، نئی قیمتوں کا اطلاق آج سے

حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور خلیج میں بڑھتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے